عنبرگرس: پاکستانی ماہی گیروں نے معدومیت کی شکار وہیل کا پیٹ چاک کیوں کیا؟

،تصویر کا ذریعہWWF PAKISTAN
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی ساحلی پٹی مکران میں پاکستانی ماہر گیروں نے سنیچر کو سمندر میں ایک مردہ وہیل ملنے پر اس کی قیمتی اور خوشبودار قے یعنی عنبر گرس کی تلاش میں اس کا پیٹ چاک کر دیا۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ماہی گیر ہو گا جس نے آنکھوں میں کبھی عبنرگرس ملنے کے خواب نہ سجائے ہوں۔ ماہی گیر پاکستان کا ہو یا دنیا کے کسی بھی خطے کا اس کا بچپن نسل در نسل لوک کہانیاں سنتے گزرتا ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح ماہی گیر عنبر گرس ملنے سے دولت مند ہو گیا تھا۔ دنیا کا ہر ماہی گیر عنبر گرس کی تلاش میں ہر وقت کوئی بھی خطرہ مول لینے کو تیار رہتا ہے۔
ایسا ہی واقعہ سنیچر کو بلوچستان کی ساحلی پٹی مکران میں اس وقت پیش آیا، جب ماہی گیروں کو سمندر میں ایک مردہ وہیل نظر آئی تو انھوں نے قیمتی اور مہنگی ترین خوشبو کی خاطر اس کا پیٹ چاک کر دیا۔
جانوروں کی تحفظ کے عالمی ادارے ورلڈ وائڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) پاکستان کے مطابق مردہ وہیل کا پیٹ چاک کرنے کا واقعہ کلمت کھور، مارہ اور پسنی کے درمیاں جھینگے کے شکار کے لیے مشہور ساحلی علاقے سرکی میں پیش آیا۔ تاہم بعدازں سمندری لہریں اس وہیل کو اپنے ساتھ بہا کر واپس لے گئیں۔

،تصویر کا ذریعہWWF PAKISTAN
ماہی گیروں کو عنبر گرس ملا کہ نہیں اس پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔ پہلے دیکھتے ہیں بلوچستان کے ساحل پر ملنے والی وہیل کون سی تھی اور آخر یہ عنبر گرس ہوتا کیا اور اسے اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟
مردہ پائی جانے والی وہیل
ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان کے مطابق بلوچستان کے ساحل پر پائی جانے والی وہیل، بروڈس وہیل تھی۔ یہ وہیل دنیا کے گرم اور معتدل علاقوں یعنی بحر ہند، بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل میں پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے ساحل پر بھی اس کو متعدد مرتبہ دیکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر اور پاکستان میں وہیل کی یہ قسم معدومیت کے خطرے کا شکار ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہWWF Pakistan
پاکستان میں ابھی تک ایسی کوئی تحقیق دستیاب نہیں ہے، جس سے اندازہ ہو سکے کہ اس کی تعداد کتنی ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان اس کے نمونے جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اس خطرے کا شکار وہیل کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
عنبر گرس کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب سپرم وہیل کیٹل فش، آکٹپس اور یا ایسے کسی دوسرے سمندری جانور کو کھاتی ہے تو اس کا نظام ہاضمہ ایک خاص قسم کی رطوبت پیدا کرتا ہے تا کہ شکار کے نوکیلے کانٹے اور دانت اس کے جسم کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔
اس کے بعد سپرم وہیل اس ناپسندیدہ کیمیائی مادے کو قے کے ذریعہ اپنے جسم سے نکال دیتی ہے۔ کچھ محققین کے مطابق سپرم وہیل پاخانے کے ذریعے بھی عنبر نکالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہیل کے شکار کی نوکیلے حصے بھی اس کے فضلوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہیل کے جسم سے نکلنے والا یہ مادہ سمندر کی سطح پر تیرتا رہتا ہے۔
سورج کی روشنی اور سمندر کے نمک کے ملنےکے بعد یہ عنبر تیار ہوتا۔ خوشبو دار چیزیں بنانے کے لیے عبنر بہت کارآمد ہے۔
عنبر سیاہ، سفید اور سرمئی رنگ کا چربی دار مادہ ہے۔ یہ بیضوی یا گول شکل میں ہوتا ہے۔ یہ سمندر میں تیرتے ہوئے ایسی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ ایک آتش گیر مادہ ہے اور اس کے لیے شراب یا ایتھر کی ضرورت ہوتی ہے۔
عنبر گرس کو دنیا کی مہنگی ترین خوشبو سمجھا جاتا ہے، جس کی چند گرام قیمت بھی لاکھوں اور کروڑوں روپوں میں ہوتی ہے۔ یہ ایک ٹھوس، مومی اور آتش گیر مادہ ہوتا ہے۔
یہ وہیل کے نظام انضمام میں پیدا ہوتا ہے۔ جب وہیل کا معدہ اس سے بھر جاتا ہے تو وہ اس کی قے کر دیتی ہے۔
ماہرین کے مطابق وہیل کے جسم سے خارج ہوا مادہ یا عنبر ابتدا میں بدبو دار ہوتا ہے لیکن جیسے ہی اس کا ہوا سے رابطہ بڑھتا ہے اس کی بدبو ایک میٹھی خوشبو میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ عنبر خوشبو کو ہوا میں اڑنے سے روکتا ہے۔ ایک طرح سے یہ سٹیبلائزر کا کام بھی کرتا ہے تاکہ بو ہوا میں تحلیل نہ ہو جائے۔
عنبر نایاب ہے اور اسی وجہ سے اس کی قیمت بھی بہت زیادہ ہے۔ اسے سمندری سونا یا تیرتا ہوا سونا بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی قیمت سونے سے زیادہ ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں اس کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے فی کلو تک ہو سکتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ عنبر گرس کی جگہ مصنوعی عنبر وکسانڈ نے لے لی ہے۔ مگر ابھی بھی اس عنبر گرس کی مانگ بہت زیادہ ہے۔
کیا پاکستان میں عنبرگرس کبھی کسی کو ملا؟
پاکستان میں پرفیوم کی مارکیٹ سے منسلک لوگوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں سے کچھ ماہی گیروں کو عنبر گرس ملا ہے۔ یہ اتنا عام نہیں ہے۔ اس لیے ایسا واقعہ کبھی کبھی ہی پیش آتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ جب عنبر گرس کسی ماہی گیر کو دستیاب ہو بھی جائے تو اس کے لیے اس کو فروخت کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے۔

خوشبو کے کاروبار سے منسلک افراد کے مطابق اکثر اوقات مختلف لوگ عنبر گرس کی فروخت کے دوران سارا منافع اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں جبکہ وہ ماہی گیر جنھوں نے اسے تلاش کیا ہوتا ہے ان کو اونے پونے دام دے دیے جاتے ہیں۔
ایسا ہی ایک واقعہ کوئی پانچ سال قبل عمان میں پیش آیا تھا، جہاں پر تین ماہی گیروں کو عنبر گرس اچانک ملا تھا۔ انھوں نے اس عنبرگرس کو اڑھائی ملین ڈالر کے عوض فروخت کیا اور ساری رقم آپس میں تقسیم کر دی۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عنبر گرس کس وہیل میں پایاجاتا ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ عنبر گرس ہر وہیل میں نہیں پایا جاتا ہے۔ دنیا میں صرف ایک وہیل ہی ہے جس میں عنبر گرس پایا جاتا ہے۔
ڈبیلو ڈبیلو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان کا کہنا تھا کہ عنبر گرس بروڈس وہیل میں نہیں پایا جاتا ہے۔ ماہی گیروں نے لاعلمی میں بروڈس وہیل کو چیر پھاڑ دیا تھا۔
’اگر وہ اس وہیل کو چیرتے پھاڑتے نہ اور مقامی حکام یا ڈبیلو ڈبیلو ایف کو اطلاع دیتے تو اس پر تحقیق خطرے کا شکار وہیل کو بچانے میں بہت مدد دے سکتی تھی۔‘
معظم خان کا کہنا تھا کہ عنبر گرس پیدا کرنے والی وہیل سپرم وہیل کہلاتی ہے۔
یہ تقریباً دنیا کے تمام سمندروں میں پائی جاتی ہے۔ یہ پاکستان میں بھی موجود ہے۔ سنہ 2017 میں ان کا ایک جوڑا پہلی مرتبہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ سپرم وہیل کو پاکستانی سمندری حدود میں دیکھا جا چکا ہے۔
معظم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سمندری حدود میں سنہ 2005 میں سپرم وہیل کا ڈھانچہ بھی ملا تھا۔
اس کے ڈھانچے کو کراچی یونیورسٹی میں محفوظ رکھا گیا ہے۔
سپرم وہیل پندرہ فٹ سے لے کر پچاس فٹ تک طویل ہوتی ہے۔ یہ سمندر میں تقریباً تین فٹ گہرائی تک جاتی ہے۔ اس دوران یہ نوے منٹ تک اپنا سانس روک سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی خوراک سکویڈ فش ہوتی ہے۔ سکویڈ فش کی طوطے کی طرح کی چونچ ہوتی ہے۔ ’سکویڈ فش کی دس ٹانگیں ہوتی ہیں۔ یہ مچھلی پاکستانی سمندری حدود میں وافر مقدار میں دستیاب ہے، جس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپرم وہیل کو پاکستان میں خوراک کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جب یہ سپرم وہیل کے جسم میں داخل ہوتی ہے تو وہیل کو نقصان سے بچانے کے لیے قدرتی نظام حرکت میں آتا ہے، جس میں یہ اس کے گرد لعاب قسم کے مادہ کو لپیٹ دیتی ہے۔ یہی مادہ جب بہت زیادہ مقدار میں جمع ہو جاتا ہے تو وہیل اس کی قے کر دیتی ہے، جسے عنبر گرس کہا جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہANDIA
معظم خان کا کہنا تھا کہ سپرم وہیل کی قے یا عنبر گرس سمندر پر تیرتا رہتا ہے۔ کبھی ایک ہی مقام پر بہت زیادہ ہوتا ہے اور کبھی کچھ حصوں میں بٹا ہوتا ہے۔ اس کو پکڑنا اور قابو میں کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماہی گیروں اور لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ہر وہیل عنبر گرس پیدا نہیں کرتی ہے اور یہ کسی بھی وہیل، جس میں سپرم وہیل بھی شامل ہے، کے پیٹ میں بھی نہیں ہوتا ہے۔ یہ صرف سمندر ہی میں سے مل سکتا ہے۔ اس لیے اگر زندہ یا مردہ کوئی وہیل مل جائے تو اس کی چیر پھاڑ سے گریز کرنا چاہیے۔













