آزادی صحافت: عمران خان، نریندر مودی، طیب اردوغان اور محمد بن سلمان سمیت 37 سربراہان مملکت ’پریڈیٹرز آف پریس فریڈم‘ کی فہرست میں شامل

    • مصنف, عماد خالق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

صحافیوں کے تحفظ کی بین الاقوامی تنظیم 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے ایسے ملکوں کے سربراہان کی فہرست جاری کی ہے جو ان کے مطابق اپنے ملک میں سنسرشپ، صحافیوں کو قید کر کے انھیں تشدد کا نشانہ بنانے، ہراس کرنے یا انھیں نامعلوم افراد کے ہاتھوں قتل کروا کر آزادی صحافت کو مسلسل دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' نے اس فہرست کو 'پریڈیٹرز آف پریس فریڈم' یعنی ’آزادی صحافت کے دشمنوں‘ کا نام دیا ہے۔

ان 37 ممالک کے سربراہان میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی، سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان، ترکی کے طیب اردوغان، ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای، چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے ولادیمیر پوتن اور شمالی کوریا کے کم جونگ ان کے نام بھی شامل ہیں۔

جبکہ ایشیا کی دو خاتون سربراہان مملکت کا شمار بھی اس فہرست میں کیا گیا ہے۔ ان میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لام شامل ہیں۔ جبکہ چند یورپی ممالک کے سربراہ بھی اسی فہرست میں نظر آتے ہیں۔

'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ان سربراہان مملکت میں سے چند گذشتہ دو دہائیوں سے اپنے ملک میں آزادی صحافت کو سلب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستانی حکومت کا کیا کہنا ہے؟

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بی بی سی کی سحر بلوچ کو بتایا ہے کہ یہ رپورٹ ’ربِش‘ یعنی فضول ہے اور اس حوالے سے حکومت جلد اپنا تفصیلی مؤقف بھی دے گی۔

دنیا ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت ایک عالمی پروپیگنڈہ وار کا سامنا ہے، جس میں ’مسنگ پرسنز‘ اور ’فریڈم آف ایکسپریشن‘ یعنی آزادی اظہار رائے جیسے موضوعات کو استعمال کر کے پاکستان کو دبانے کی کوشش ہورہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایک مینڈیٹری فریم ورک میں لانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔

فواد چوہدری کے مطابق ’ہم نے ان سے اس درجہ بندی کا معیار پوچھا ہے اور ان سے کہا ہے کہ ان کا کرائیٹیریا کیا ہے، پاکستان میں کیا ایس واقعات ہوئے ہیں اور پاکستان میں کیا ایسی قیامت ٹوٹی ہے کہ جس کے بعد آپ نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ایک جگہ لا کھڑا کیا ہے۔‘

پاکستان کے بارے میں کیا کہا گیا ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت پر بڑھتی قدغنیں اور بندشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور آئے روز صحافیوں پر تشدد، اغوا، ہراس یا قتل کے واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی زبان بندی کا عمل بھی جاری ہے۔

ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس یعنی آزاد صحافت کی صورتحال کی عالمی فہرست کے مطابق 180 ممالک میں سے پاکستان کا شمار 145ویں نمبر پر ہوتا ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا نام بھی 'پریڈیٹرز آف پریس فریڈم' فہرست میں شامل کیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان ہر وقت مرکز نگاہ رہنا پسند کرتے ہیں، انھوں نے سیاست میں قدم رکھنے سے قبل بطور ایک قومی کرکٹ سٹار یورپی ممالک میں فیشن ایبل زندگی بسر کی اور سنہ 2018 کے انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں آزادی صحافت پر قدغنیں لگانا شروع کر دیں۔ ان کے دور حکومت میں ’جمہوری قوتیں کمزور ہوئیں اور سویلین بالادستی کی جگہ ملک کی فوجی اسٹیبلمشنٹ کی 'ڈیپ سٹیٹ' کو مزید تقویت ملی۔‘

رپورٹ کے مطابق ان کے دور حکومت میں ملک میں مذہبی قدامت پسندی، مقبولیت کے نظریے اور توہین مذہب کے قانون پر تنازعات نے جنم لیا۔ اس میں مزید لکھا گیا کہ ان کے دور حکومت میں حکومتی حامی میڈیا، سوشل میڈیا کو پروان چڑھایا گیا اور آزاد صحافت کرنے والے صحافیوں کو قانونی مقدمات، قاتلانہ حملے، تشدد اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آر ایس ایف نے کہا ہے کہ اس کے پس منظر میں ’فوجی انتظامیہ‘ نے جو کسی کی اپنے معاملات میں دخل اندازی پسند نہیں کرتے آزادی صحافت کو ہر طرح سے دبانے کی کوشش کی ہے۔

اس میں مزید لکھا ہے کہ جب سے عمران خان اقتدار میں آیے ہیں، ملک کے پرنٹ، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر مختلف طریقوں سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن میں اشتہارت کو روکنا، ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرناسمیت ان صحافیوں پر تشدد اور ان کا اغوا بھی شامل ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا دور حکمرانی ماضی کی آمرانہ حکومتوں کی یاد دلاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں حکومت کے ناقدین صحافیوں کو مختلف طریقوں سے ہراس کیا گیا ہے جن میں انھیں کسی معاملے پر رپورٹ کرنے پر دھمکیاں ملنا بھی شامل ہے۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ملک سے باہر جانے والے صحافیوں کو ان ممالک میں بھی ہراس کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت کے دوران ملک کے سوشل میڈیا پر بھی آزادانہ تبصروں اور رائے عامہ کو سخت سوشل میڈیا قوانین کا نفاذ کر کے ختم کیا جا رہا ہے۔ اور جو صحافی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کے لیے تیار کیے جانے والے جتھوں کا سامنا کرنے کی جرات رکھتے ہیں ان پر 'پاکستان مخالف' 'فوج مخالف' اور 'عمران خان مخالف' قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے ملک میں آزادی صحافت اور حکومتی بیانیے کے ایک مثال دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 'سنہ 2019 جولائی میں جس وقت وزیر اعظم عمران خان نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں ملک میں آزادی صحافت پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں آزادی صحافت دنیا میں سب سے زیادہ ہے، اس کے چند گھنٹوں بعد ہی پاکستان کے ایک بڑی نجی ٹی وی چینل جیو ٹی وی کی نشریات بند کر دی گئیں تھیں۔'

یہ بھی پڑھیے

’ایسے سربراہان شامل کو میڈیا پر قدغنیں لگا رہے ہیں‘

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 2016 کے پانچ برس بعد شائع کردہ 'پریڈیٹرز آف پریس فریڈم' کی فہرست میں 17 ممالک کے سربراہان کو پہلی بار شامل کیا گیا ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کے میڈیا پر قدغنیں لگا رہے ہیں۔ ان میں سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان بھی شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں 19 ایسے ممالک کو سرخ رنگ میں دکھایا گیا ہے جہاں صحافت کے لیے حالات خراب ہے اور صحافیوں کو آزادانہ طور پر کام کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ 16 ایسے ممالک کی سیاہ رنگ سے نمائندگی کی گئی ہے جہاں آزاد صحافت کی صورتحال 'انتہائی خراب' ہے اور ان ممالک میں صحافیوں کو آزادنہ صحافت کرنے میں سنگین نتائج سمیت انتہائی خراب حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔'

اس رپورٹ میں آزاد صحافت کے شکاریوں کے طور پر بیان کیے جانے والے 37 سربراہان میں سے 13 کا تعلق ایشیا پسیفک خطے سے ہے۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈز کے سکیرٹری جنرل کرسٹفی ڈیلور کا اس فہرست کے متعلق کہنا تھا کہ 'پریڈیٹرز آف پریس فریڈم فہرست میں دنیا بھر کے 37 سربراہان مملکت کو شامل کیا گیا ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ فہرست جامع ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'ہر ملک کے سربراہ کا آزادی صحافت کو ختم کرنے کا اپنا طریقہ ہے، کوئی غیر منطقی اور بے بنیاد احکامات جاری کر کے دہشت کا راج قائم کرتے ہیں تو کوئی سخت قوانین پر مبنی حکمت عملی اپناتے ہیں۔ چیلنج یہ ہے کہ ہم حکمرانوں کے ہتھکنڈوں کو معاشرے میں مقبول نہ ہونے دیں۔‘