پشتون تحفظ موومنٹ: پارلیمانی اور غیر پارلیمانی سیاست، کیا پی ٹی ایم دونوں کشتیوں میں سوار ہے؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
آج سے تین برس قبل آج ہی کے دن سینکڑوں قبائلی نوجوانوں کی ایک ریلی کے صورت میں کشمیر ہائی وے سے ہوتے ہوئے دارالحکومت اسلام آباد میں داخل ہوئی۔ یہاں دس دن دھرنے کے بعد پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا قیام عمل میں آیا اور اس کے بعد اس تنظیم کے مطالبات زور پکڑتے گئے، اس پر الزامات لگتے رہے اور مذاکرات کی خبریں بھی آتی رہیں۔
اب پی ٹی ایم کے تین سال مکمل ہونے پر تنظیم کے آئین کے مطابق اس نے غیر پارلیمانی سیاست کا راستہ چُنا ہے اور کہا ہے کہ اگر پی ٹی ایم کا کوئی رکن آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینا چاہتا ہے تو لے سکتا ہے، تاہم کوئی عہدیدار انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔
لیکن اس آئین میں یہ ذکر نہیں کہ اگر کوئی عہدیدار انتخابات میں حصہ لے گا تو کیا وہ تنظیم کا رکن رہے گا یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی ایم دو کشتیوں میں سوار نہیں ہو رہی؟
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے بی بی سی کو بتایا کہ نئے پارٹی آئین کے تحت اب یہ طے ہے کہ پی ٹی ایم غیر پارلیمانی ہی رہے گی۔ اُن کے مطابق تنظیم کا کوئی عہدیدار پارلیمانی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس وقت بھی پی ٹی ایم کے تین ارکان قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے ممبر ہیں، منظور پشتین کا کہنا تھا کہ جب اُنہوں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا تو اُس وقت یہ آئین نہیں بنا تھا۔
اگرچہ پی ٹی ایم کے اندر ایک دھڑہ ایک عرصے سے یہ کوشش کرتا رہا کہ اس تنظیم کو سیاسی پارٹی کے طور پر الیکشن کمیشن میں درج کیا جائے اور پاکستان کی دیگر سیاسی پارٹیوں کی طرح پی ٹی ایم بھی اسمبلیوں میں ہی عوام کی نمائندگی کرے اور پارلیمان کے ذریعے ہی اپنے مطالبات منوائے۔
تاہم دوسری جانب تنظیم کے سربراہ منظور پشتین اور دیگر پہلے ہی دن سے پارلیمانی سیاست کے مخالف تھے اور وہ اپنی تنظیم کو پارلیمان سے دور رکھ کر اپنے عوام کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ پارلیمانی سیاست میں آنے سے اُن کی مزاحمت کمزور ہوجائے گی۔ لگ بھگ ڈھائی سال کی اندرونی بحث مباحثوں یا پھر اختلافات کے بعد اب پی ٹی ایم کے نئے آئین کے مطابق یہ تنظیم غیر پارلیمانی ہی رہے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی ٹی ایم کے اندر وہ لوگ جو پارلیمانی سیاست کے مخالف تھے وہ یہ سمجھتے تھے کہ چونکہ پشتونوں کی نمائندگی کے لیے پہلے ہی سے تین بڑی سیاسی جماعتیں (عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور قومی وطن پارٹی) موجود ہیں تو اگر پی ٹی ایم بھی پارلیمانی سیاست میں قدم رکھتی ہے تو ایک تو ان پارٹیوں کے ووٹ کو مزید تقسیم کرے گی اور دوسرا یہ کہ اُن کے بقول پارلیمان چونکہ ’آزاد نہیں‘ ہوتی تو وہ کھل کر اپنے مطالبات کے حق میں بات بھی نہیں کرسکیں گے۔
دوسری جانب وہ جو پارلیمانی سیاست کے حق میں تھے وہ یہ سجھتے ہیں کہ پہلے سے موجود پشتون قوم پرست جماعتوں پر اب اُن کے بقول ’عوام کا اعتماد پہلے کی طرح نہیں رہا‘ اور نہ ہی اُن کے مطابق ان پارٹیوں نے پارلیمان میں ’پشتونوں کی نمائندگی صحیح طرح سے کی‘ ہے۔ تو اس لیے ضروری ہے کہ ’پی ٹی ایم جیسی نئی پارٹی نئے خون کی نمائندگی صحیح طرح سے کرے‘۔
لیکن اصل تصویر اب بھی غیر واضح معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے

پشاور میں مقیم صحافی اور تجزیہ کار محمود جان بابر سمجھتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے کسی بھی کارکن نے اگر پارلیمانی سیاست میں حصہ لیا تو اُنھوں نے پارلیمان سے تنظیم کو فائدہ نہیں پہنچایا بلکہ اُن کے مطابق اس کے برعکس اُنھیں تنظیم کے اندر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
’میرے خیال میں پارلیمان میں جو اُن کے دو افراد بیٹھے ہیں تحریک کے اندر تو اُنھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کہ یہ دونوں کیسے جیتے؟ اور میں یہ سجھتا ہوں کہ وہ لوگ پارلیمان سے تحریک کے لیے کیا لاسکیں گے۔‘
تاہم محمود جان بابر سجھتے ہیں کہ اگر پی ٹی ایم غیر پارلیمانی رہ جاتی ہے تو بقول اُن کے ’وہ پی ٹی ایم کا کوئی دور تک مستقبل نہیں دیکھ رہے۔‘
تنظیم سازی میں تاخیر
تنظیم کے سربراہ منظور پشتین کا کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کی تنظیم سازی کا مرحلہ گذشتہ دو ماہ سے شروع ہوچکا ہے اور اُن کے مطابق مزید چار سے چھ ماہ میں اُن کی تنظیم سازی مکمل ہو جائے گی۔
پی ٹی ایم کے اندر بعض لوگ یہ تنقید کرتے رہے ہیں کہ تنظیم سازی میں بہت تاخیر ہوئی ہے اور یہ کام اُنھیں پہلے سال ہی کرنا چاہیے تھا۔ تاہم منظور پشتین کہتے ہیں کہ اُنھیں پہلے ہی دن سے مختلف مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اُنھیں تنظیم سازی کے لیے وقت ہی نہیں ملا۔
پی ٹی ایم کے اندر بعض ذرائع کے مطابق تنظیم میں پہلے ہی دن سے پارلیمانی اور غیر پارلیمانی سیاست پر اختلافات تھے اور انہی اختلافات کی وجہ سے تنظیم سازی میں دیر ہوئی۔
سابق سینیٹر اور پشتون تحفظ موومنٹ کے حامی افراسیاب خٹک کے مطابق تنظیم سازی میں دیر کی وجہ سے پی ٹی ایم کی تاحال ہر جگہ نمائندگی نہیں ہوئی ہے تاہم اُن کے مطابق آج بھی پی ٹی ایم نے جہاں بھی جلسے کا اعلان کیا ہے تو بہت سارے لوگوں نے اُن جلسوں میں شرکت کی ہے۔
تین سالہ پی ٹی ایم
پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین کا دعویٰ ہے کہ اُن کی تنظیم پہلے سے زیادہ فعال، مضبوط اور متحد ہے اور اُن کی مزاحمت جاری رہے گی۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پی ٹی ایم کا کوئی ایک بھی مطالبہ حل ہوا ہے؟ منظور پشتین کا کہنا ہے کہ اُن کے پانچ یا دس فیصد مطالبات حل ہوئے تاہم اب پہلے دن کی نسبت اُن کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔
پی ٹی ایم پر شروع ہی سے ایک الزام یہ بھی ہے کہ اُن کے مطالبات شروع میں کم تھے اور وہ ایک حد تک حل ہوئے تاہم انھوں نے نئے مطالبات شروع کر دیے اور پہلے دن کے مقابلے میں اُن کے مطالبات بڑھ گئے ہیں۔
تنظیم کے سربراہ منظور پشتین کہتے ہیں چونکہ پی ٹی ایم پہلے دن صرف وزیرستان کے مسائل کے حل کی بات کررہی تھی اور اب جب تنظیم پورے پختونخوا میں پھیل چکی ہے تو اُن کے ساتھ مطالبات بھی بڑھ چکے ہیں۔
منظور پشتین کے مطابق اُن کے بڑے مطالبات میں ’ٹروتھ اینڈ ری کنسی لئیشن کمیشن، لاپتہ افراد کی رہائی اور لینڈ مائنز کی صفائی ہے جن میں سے ’ایک بھی حل نہیں ہوا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں ’پہلے سال مِسنگ پرسنز کی رہائی کا سلسلہ چلتا رہا لیکن وہ بھی غیر آئینی طریقے سے یعنی عدالت میں حاضر کیے بغیر لوگوں کو رہا کرتے رہے، تاہم بعد میں یہ سلسلہ بھی بند ہوا۔‘
پی ٹی ایم حکومت مذاکرات
پی ٹی ایم اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں منظور پشتین کا کہنا تھا کہ ’آپ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ مذاکرات بالکل ختم ہوئے اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ تاحال جاری ہیں۔‘
اُنھوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے ہر وقت مذاکرات کے نام پر اُنہیں ’چُھرا گھومپا‘ گیا ہے۔
جنوبی وزیرستان میں اُن کے کارکنوں کی ہلاکت، خڑ کمر واقعہ اور خود اپنی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ یہ تمام واقعات حکومت کی جانب سے مذاکرات کے اعلان کے ساتھ ہی ہوئے ہیں۔
موجودہ حکومت کی جانب سے پی ٹی ایم کے ساتھ مذاکرات کا آخری اعلان وزیر دفاع پرویز خٹک نے جون 2020 میں کیا تھا اور دونوں مذاکراتی ٹیموں کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوئی لیکن تاحال کوئی پیش رفت نظر نہیں آ رہی ہے۔








