خادم حسین رضوی: لاہور میں تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت، بیٹا جانشین مقرر

خادم حسین رضوی، مینارِ پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images/Reuters

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی کی نمازِ جنازہ سنیچر کو پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں کارکنان سمیت ہزاروں افراد کی موجودگی میں ادا کر دی گئی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے بانی جمعرات کو 55 سال کی عمر میں لاہور میں وفات پا گئے تھے۔ منٹو پارک (جو اب گریٹر اقبال پارک کہلایا جاتا ہے) میں ان کی نمازِ جنازہ کے موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور دیگر مذہبی و سیاسی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق پارک اندر اور باہر سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس دوران میٹرو سروس معطل رہی اور ان کی میت ایمبولنس میں آزادی انٹرچینج تک لائی گئی۔

نمازِ جنازہ سے قبل اعلان کیا گیا کہ جماعت کی مجلس شوریٰ نے خادم رضوی کے بڑے صاحبزادے سعد حسین رضوی کو ان کا جانشین مقرر کیا ہے۔ سعد رضوی نے والد کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور شرکا سے ان کا مشن جاری رکھنے کا حلف لیا۔

سعد رضوی

،تصویر کا ذریعہTLP

،تصویر کا کیپشنجماعت کی مجلس شوریٰ نے خادم رضوی کے بڑے صاحبزادے سعد حسین رضوی کو ان کا جانشین مقرر کیا ہے

اس موقع پر شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ موبائل فون سروسز مختصر دورانیے کے لیے معطل رہیں اور شہر کے اس حصے میں کاروبار بند رہا۔

یہ بھی پڑھیے

بادشاہی مسجد
،تصویر کا کیپشنشرکا بادشاہی مسجد کے قریب بھی موجود تھے جو مینارِ پاکستان سے کچھ فاصلے پر ہے

بریلوی سوچ کے حامل 55 سالہ خادم حسین رضوی جمعرات کو لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں مردہ حالت میں لائے گئے تھے۔

جماعت کے ترجمان قاری زبیر نے بتایا تھا کہ ان کی وفات کی وجہ فی الحال معلوم نہیں۔ ان کے مطابق گذشتہ چند روز سے خادم رضوی کی طبیعت خراب تھی۔

لاہور میں شیخ زید ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اکبر حسین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رات 8 بج کر 48 منٹ پر خادم رضوی کو مردہ حالت میں ہسپتال کے ایمرجنسی وراڈ لیا گیا تھا اور اس سے قبل وہ یہاں زیر علاج نہیں تھے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ڈاکٹر اکبر حسین کے مطابق کسی کو مردہ حالت میں لائے جانے کی صورت میں ہسپتال موت کی وجہ کا تعین نہیں کرسکتا۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے ان کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

چند روز قبل انھیں میڈیا پر اس وقت دیکھا گیا تھا جب ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے لیے ریلی نکالی اور مظاہرے کے بعد فیض آباد کے مقام پر دھرنا دیا تھا۔

مینار پاکستان، خادم رضوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بعد ازاں پاکستان کی وفاقی حکومت اور انتظامیہ نے تحریک لبیک کے سربراہ کے ساتھ 'کامیاب مذاکرات' کیے اور چار نکاتی معاہدے پر اتفاق ہوا۔

مذاکرات کی کامیابی کے چند گھنٹوں بعد اس دھرنے کو ختم کر دیا گیا تھا۔

خادم رضوی کون تھے؟

خادم رضوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک کے بانی خادم حسین رضوی کے بارے میں چند برس پہلے تک کچھ زیادہ معلوم نہیں تھا۔ پھر نومبر 2017 میں انھوں نے ایک ریلی کی قیادت کرتے ہوئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد پر دھرنا دیا۔ تین برس بعد نومبر 2020 میں ایک مرتبہ پھر ان کی جماعت کے کارکنوں نے اسی مقام پر دھرنا دیا ہے۔

بریلوی سوچ کے حامل خادم حسین رضوی کو ممتاز قادری کے حق میں کھل کر بولنے کی وجہ سے پنجاب کے محکمۂ اوقاف سے فارغ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک کی بنیاد رکھی اور اسی برس ستمبر میں این اے 120 لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا۔

ویل چیئر تک محدود ہونے کے باوجود خادم حسین رضوی پاکستان میں توہین رسالت کے متنازع قانون کے ایک بڑے حامی بن کر سامنے آئے۔ وہ اس قانون کے غلط استعمال کے الزام سے بھی متفق نہیں۔

ان کا انداز بیان کافی سخت ہوتا ہے۔ پاکستانی میڈیا کی جانب سے کوریج نہ ملنے کا حل بظاہر انھوں نے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کر کے نکالا۔ ناصرف اردو اور انگریزی میں ان کی ویب سائٹس بنائی گئیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کئی اکاؤنٹ بنے۔

وہ اپنے آپ کو پیغمبر اسلام کا 'چوکیدار' کہہ کر بلاتے تھے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسی نے کہا تھا کہ 'اربوں کی پراپرٹی تباہ کردی گئی ہے اور 'پریمیئر' انٹیلی جنس ایجنسی کو معلوم ہی نہیں کہ خادم رضوی کیا کرتا ہے۔'

محکمہ دفاع کے نمائندے کرنل فلک ناز نے عدالت کو بتایا تھا کہ خادم حسین رضوی خطیب ہیں اور ان کی سیاسی جماعت ہے جو چندے سے چلتی ہے۔

اسلام آباد میں انسداد دہشتگری عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں ان کی گرفتاری کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وہ ضمانت پر رہا ہوگئے تھے۔