مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کی ہلاکت: وزیر مملکت زرتاج گل، مشیر سمیت محکمہ وائلڈ لائف کے حکام کو توہین عدالت کے نوٹس جاری

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی کے دوران شیر اور شیرنی سمیت متعدد جانوروں کی ہلاکت پر وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل، وزیر اعظم کے مشیر ملک امین اسلم سمیت اسلام آباد وائلڈ لائف مینیجمنٹ بورڈ کے اراکین کو توہین عدالت کے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل ایک رکنی بنچ نے منگل کو مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی نے موقف اختیارکیا کہ ’میں واقعے کی تمام ذمہ داری قبول کرتی ہوں، کابینہ کے ارکان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔‘

اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ کابینہ نے وائلڈ لائف بورڈ کی منظوری دی تھی، اس لیے وہ بھی ذمہ دار ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل طیب شاہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی خود اس معاملے کی انکوائری کر رہی ہیں جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'وزارت موسمیاتی تبدیلی خود ذمہ دار ہے، سیکرٹری صاحبہ اپنے خلاف تحقیقات کیسے کریں گی؟‘

یہ بھی پڑھیے

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا: 'کیا آپ سب یہ چاہتے ہیں کہ عدالت وزیراعظم کو نوٹس جاری کر کے طلب کرے؟ وزیراعظم کو تو پتا بھی نہیں ہو گا نیچے ہو کیا رہا ہے۔'

سماعت کے دوران سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارت قانون نے کہا ہے کہ کابینہ کا کوئی رکن وائلڈ لائف بورڈ کا رکن نہیں ہو سکتا جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ 'وفاقی کابینہ نے خود وزیر کی بورڈ میں شمولیت کی منظوری دی تھی، وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں اس عدالت نے اپنا حکم جاری کیا تھا۔‘

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ وزارت قانون عدالتی فیصلے کو خود کیسے تبدیل کر سکتی ہے؟

انھوں نے کہا کہ لوگوں نے گھروں میں شیر پال رکھے ہیں، گھروں میں پالتو جانور رکھنا بھی غیر قانونی ہے، حکومت کو مکمل پابندی لگانی چائیے کہ کوئی بھی جانور درآمد نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت میں استفسار کیا کہ شیروں کی موت پر رپورٹ کدھر ہے اور ایف آئی آر کا کیا بنا؟ ان کا کہنا تھا کہ 'یہ کیس ایک مثال ہوگا، یہ مقدمہ جانوروں پر انسانوں کے ظلم کی داستان ہے۔'

انھوں نے محکمہ غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ'جانوروں سے متعلق کوئی اچھی بات ہو، دنیا تعریف کر رہی ہو تو کریڈٹ لینے سب چڑیا گھر پہنچ جاتے ہیں، اب شیروں کی ہلاکت کے معاملے پر کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔'

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ اسلام آباد میں واقع مرغزار چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی کے دوران کئی جانور ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی جس کے بعد کوہسار پولیس سٹیشن میں اس حوالے سے ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی۔

ایف آئی آر میں درخواست گزار کی جانب سے ایک وائرل ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ چڑیا گھر انتظامیہ کے تین اہلکار شیر اور شیرنی کو ان کی پنجرے سے نکالنے کے لیے پنجرے کے مختلف حصوں میں آگ لگانے کے علاوہ دونوں جانوروں پر تشدد بھی کر رہے ہیں۔ بعدازاں یہ دونوں جانور ہلاک ہو گئے تھے۔

اسلام آباد کے چڑیا گھر سے جانوروں کی منتقلی اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی جا رہی تھی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کی شوکاز نوٹس جاری نہ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئےعدالت نے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی کو بھی توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے وزیر مملکت زرتاج گل اور تمام بورڈ ممبران سے شوکاز نوٹس پر 27 اگست تک جواب طلب کر لیا ہے۔

چڑیا گھر سے متعلق عدالتی احکامات کیا تھے؟

رواں برس مئی میں اسلام آباد کے ہائی کورٹ نے شہر کے چڑیا گھر میں موجود ہاتھی کاون سمیت دیگر جانوروں کو دو ماہ کے اندر اندر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مرغزار چڑیا گھر کی حالت پر اپنے تحریری فیصلے میں حکم دیا تھا کہ اس عمل کی نگرانی چیئرمین وائلڈ لائف کی سربراہی میں قائم کیا جانے والا بورڈ کرے گا۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ چڑیا گھر میں ’کاون‘ نامی ہاتھی کو اذیت ناک حالات میں رکھا گیا ہے۔

عدالت نے محکمہ جنگلی حیات کے سربراہ کو حکم دیا تھا کہ وہ سری لنکا کے ہائی کمشنر کی مشاورت سے کاون کو ایک ماہ کے اندر مناسب پناہ گاہ میں منتقل کرنے کا انتظام کریں۔

عدالت نے حکم نامے میں کہا تھا کہ مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کے لیے سہولیات کا فقدان ہے جس کے باعث جانور اذیت میں مبتلا ہیں جو کہ جنگلی حیات کے آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ چڑیا گھر کے تمام جانوروں کو اندرونِ ملک یا ملک سے باہر پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے اور اس سلسلے میں وزارت موسمیاتی تبدیلی اور اسلام آباد کی انتظامیہ اور وائلڈ لائف بورڈ مل کر کام کریں۔

عدالت نے یہ حکم بھی دیا تھا کہ بورڈ اس وقت تک چڑیا گھر میں کوئی نیا جانور نہیں رکھے گا جب تک کوئی نامور بین الاقوامی ایجنسی یا تنظیم جو چڑیا گھر سے متعلق معاملات میں مہارت رکھتی ہو، اس بات کی تصدیق کر دے کہ چڑیا گھر میں جانوروں کی ہر نوع کی معاشرتی اور جسمانی ضروریات پورا کرنے کے لیے سہولیات اور وسائل دستیاب ہیں۔