ایم این اے محسن داوڑ اور علی وزیر ضمانت پر ہری پور جیل سے رہا

PTM

،تصویر کا ذریعہPTM

،تصویر کا کیپشنمحسن داوڑ اور علی وزیر کو جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب ہری پور سینٹرل جیل سے ضمانت پر رہا کیا گیا

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور اراکین قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر عدالتی حکم پر ضمانت منظور ہونے کے دو روز بعد ضابطے کی کارروائی پوری ہونے پر ہری پور جیل سے رہا کر دیے گئے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ نے شمالی وزیرستان میں ’سکیورٹی چیک پوسٹ پر مظاہرین اور فوجی اہلکاروں کے درمیان تصادم‘ کے بعد گرفتار ہونے والے پشتون تحفظ موومنٹ کے ممبران قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی طرف سے ضمانت کے لیے دائر درخواستیں منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

یہ احکامات پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ کے جسٹس ناصر محمود پر مشتمل ایک رکنی بینچ نے بدھ کو درخواستوں پر دلائل مکمل ہونے کے بعد جاری کیے۔

دونوں اراکینِ پارلیمنٹ کے اہل خانہ اور ان کے وکیل نے ان کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور سوشل میڈیا پر جیل سے نکلنے کے بعد محسن داوڑ اور علی وزیر کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ہری پور سے پشاور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

تاہم ملزمان کے وکیل طارق افغان ایڈوکیٹ نے بی بی سی سے گفتگو میں ضمانت کے لیے جج کی جانب سے دیے جانے والے بیل آرڈر کو نامناسب قرار دیا۔ انھوں نے اسے عدالتی تاریخ کا انوکھا بیل آرڈر قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اراکینِ اسمبلی کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ انھیں ہر ہفتے علاقے کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر، ڈی سی او کے دفتر میں حاضری دینی ہوگی اور ایک مہینے کے بعد ضمانت کی نئی درخواست دینی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ حکم سمجھ سے بالاتر ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔‘

محسن داوڑ اور علی وزیر کے خلاف شمالی وزیرستان کے علاقے خاڑ قمر میں 25 مئی کو سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کے الزام میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور بعد میں دونوں ارکانِ قومی اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

عدالت نے دونوں پی ٹی ایم رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ اس کے ساتھ ہی ٹرائل کورٹ کو مقدمے کو دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت

،تصویر کا ذریعہTariq Afghan

عدالت

،تصویر کا ذریعہTariq Afghan

طارق افغان نے مزید بتایا کہ ماتحت عدالت سے ملزمان کی ضمانت کے لیے دائر درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں، تاہم بعد میں ملزمان نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کے مطابق بدھ کو عدالت عالیہ کی طرف سے دونوں طرف کے وکلا کے دلائل سنے گئے جس کے بعد دونوں ملزمان کی رہائی کے لیے درخواستیں منظور کرلی گئیں اور اس طرح عدالت کی طرف سے ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

خیال رہے کہ مئی میں شمالی وزیرستان کے علاقے خاڑ قمر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے کیے گئے آپریشن میں چند مقامی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد میں مقامی لوگوں نے مشتعل ہو کر ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا اور اس میں محسن داوڑ اور علی وزیر بھی شامل ہوگئے تھے۔ تاہم احتجاج کے دوران خاڑ قمر چیک پوسٹ پر تصادم ہوا جس میں دونوں طرف سے ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی ٹی ایم کے کارکنان نے ارکانِ قومی اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں شمالی وزیرستان میں فوج کی خاڑ قمر چیک پوسٹ پر ایک دن قبل گرفتار کیے گئے شدت پسندوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے حملہ کیا تھا۔ تاہم بعد میں اس الزام کے تحت دونوں کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتار کرلیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس تصادم میں تین افراد ہلاک جبکہ 15 زخمی ہوئے جن میں پانچ فوجی بھی شامل تھے۔ تاہم بعد میں ان ہلاکتوں میں اضافہ ہوا تھا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے براہِ راست اشتعال انگیزی اور فائرنگ کے باوجود صبر سے کام لیا تاہم اس دوران چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی جس میں پانچ سپاہی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پی ٹی ایم نے الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فوج نے ان کے پرامن دھرنے پر حملہ کیا تھا۔