مسلسل پانچ سال قحط کے بعد صحرائے تھر میں بارش کے بعد کے مناظر

گذشتہ سال اگست میں سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں مسلسل پانچویں قحط کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس بار بارش سے یہاں کے لوگوں کی خوشحالی لوٹ آئی ہے۔ یہ تصاویر وقاص راجپوت نے ارسال کیں۔

سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنہر سال ماہ جون میں سندھ کے صحرائی علاقے تھر کے لوگوں کی نظریں آسمان پر ہوتی ہیں کہ کب بارش ہو گی اور ان کی خوشحالی کا دور شروع ہوگا۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنرواں سال تھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ دو ماہ تاخیر سے شروع ہوا۔ یہاں بارش کا موسم 15 جون سے ستمبر 15 ہے لیکن اس سال اس میں تاخیر ہوئی۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنصدیوں سے یہاں کے لوگوں کے پاس پانی کے حصول کے صرف دو ذریعے ہیں۔ بارش اور زیر زمین پانی کے ذخائر۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنابتدائی بارشوں سے جیسے ہی ریتیلی زمین میں نمی آتی ہے، ہل چلاکر باجرے، گوار کی پھلی، موٹھ، مونگ وغیرہ کی بوائی کی جاتی ہے۔ ہر پندرہ دنوں میں اس فصل کو بارش کی ضرورت پڑتی ہے۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنبارشوں کے بعد اس صحرائی زمین کا پہلا تحفہ مشروم اور مریڑو نامی ساگ ہوتے ہیں جو کمزور جسموں میں جان ڈال دیتے ہیں۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنسولہ لاکھ آبادی کے اس ضلع میں 60 لاکھ سے زائد مال مویشی ہیں۔ یہ مویشی یہاں کے لوگوں کی جزوی یا کل مالی معاونت کرتے ہیں۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنبارش کے بعد کچھ مقامات پر زمین پر ہل چلائے جارہے ہیں جس میں روایتی طور پر بیل ، اونٹ اور گدھے کی مدد لی جاتی ہے یا کچھ لوگ ٹریکٹر بھی استعمال کرتے ہیں
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال اگست کے مہینے میں قحط کا اعلان کیا گیا تھا، جو قحط کا مسلسل پانچواں سال تھا۔ محکمہ صحت کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ ضلعے میں صرف 2018 میں 505 بچوں کی اموات ہوئیں۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشناگست میں صحرائے تھر نے جیسے ہی ہری چادر لپیٹی ہے، سیاحوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ ٹی وی چینلز ہوں یا سوشل میڈیا، ہر جگہ تھر کی خوبصورتی کے چرچے ہیں۔
سندھ کا صحرائی علاقہ تھر
،تصویر کا کیپشنضلعی ہیڈ کواٹر مٹھی کا ٹیلہ گڈی بھٹ ہو یا ننگرپاکر، سیاحوں کی ایک بڑی تعداد یہاں پہنچ چکی ہے۔