گوادر کے ساحل پر 34 فٹ لمبی مردہ وہیل

وہیل مچھلی

،تصویر کا ذریعہAbdul Rahim

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں حکام کے نے تصدیق کی ہے کہ ضلع کے مغربی ساحل سے ایک عظیم الجثہ وہیل مچھلی مردہ حالات میں ملی ہے۔

گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر برائے ماحولیات و میرین بیالوجسٹ عبد الرحیم نے بی بی سی اردو کے محمد کاظم سے بات کرتے ہویے بتایا کہ یہ برائیڈس نسل سے تعلق رکھنے والی وہیل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی لمبائی 34 فٹ جبکہ وزن دس ٹن کے لگ بھگ ہے۔

وہیل مچھلی

،تصویر کا ذریعہAbdulRahim

،تصویر کا کیپشنمردہ وہیل کے جسم پر زخم سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی بڑے جہاز سے ٹکرائی ہے

وہیل کی ہلاکت کی ممکنہ وجہ کے بارے میں جی ڈی اے کے اہلکار کا کہنا تھا کہ اس کی دو سے تین وجوہات ہوسکتی ہیں جن کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان مچھلیوں کی ہلاکت کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ ممنوعہ جالوں میں پھنس کر زخمی ہونے کی وجہ سے مرجاتی ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ بڑے جہازوں سے ٹکرانے کے باعث زخمی ہو کر ہلاک ہو جاتی ہیں۔

وپیل

،تصویر کا ذریعہAbdul Rahim

ان کا کہنا تھا کہ وہیل مچھلیاں ایکو ساؤنڈ کی مدد سے سمندر میں چلتی ہیں۔ جب بڑے جہازوں اور ٹرالروں کا ادھر سے گزر ہو تو ان کے انجن سے نکلنے والی بھاری آواز سے ان کا ایکو ساؤنڈ سسٹم متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے راستے سے بھٹک کر ان جہازوں سے ٹکرا کر زخمی ہو جاتی ہیں جو ان کی موت کا باعث بنتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی ہلاکت کی تیسری وجہ آلودگی ہوتی ہے۔ ’جب سمندر کا پانی گندا ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے اور اس سے متاثرہ چھوٹی مچھلیوں کو کھانے کے باعث وہ ہلاک ہوتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو وہیل مچھلی مردہ حالت میں ملی ہے اس کے جسم پر زخم ہیں۔

وہیل

،تصویر کا ذریعہAbdul Rahim

،تصویر کا کیپشنحکام کے مطابق ملنے والی وہیل کے جسم پر زخموں کے نشانات ہیں

عبدالرحیم بلوچ نے بتایا کہ وہیل مچھلی کی ہلاکت کے بارے میں ان تمام پہلوؤں کو دیکھا جارہا ہے تاہم اس کے جسم پر موجود زخم سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ کسی بڑے جہاز سے ٹکرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے فی الحال اسے ریت میں دبا دیا گیا ہے۔

’چونکہ باہر پڑے رہنے سے اس سے بہت زیادہ بدبو پھیلتی ہے اس لیے ماحول کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے اسے ریت میں دفن کیا گیا ہے۔ ایک ماہ میں جب اس کا گوشت اور چربی گل جائیں گے تو اس کی ہڈیوں کو نکالاجائے گا۔‘

وہیل

،تصویر کا ذریعہAbdul Rahim

جی ڈی اے کے اہلکار نے بتایا کہ وہیل مچھلی کی ہڈیوں کو گوادر میں موجود میوزیم میں رکھا جائے گا یا پھر ریسرچ کے لیے کسی یونیورسٹی کے حوالے کیا جائے گا۔