آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان پناہ گزین: ’آنے والی نسل فارسی زبان کو فراموش کر دے گی‘
1980 میں جب افغان پناہ گزین نے کراچی کا رُخ کیا تو ان کے پاس اپنی زبان کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھاـ لیکن 38 سال بعد یہ زبان ان کے بچّے نہیں بول سکتے، جس کی وجہ سے افغان والدین کو ڈر ہے کہ وہ اپنے وطن کے ساتھ اپنی شناخت بھی کھو بیٹھیں گےـ
اسی خلا کو پر کرنے کے لیے کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں افغان پناہ گزینوں کے بچے فارسی اور دری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دیکھیے کراچی سے سحر بلوچ کی رپورٹ۔