گرین پیس پر جرمانہ: اپیل ہو گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گرین پیس پر پانچ ہزار ڈالر جرمانہ کیا گیا ہے۔ جس کے خلاف وہ اپیل کرے گی۔ دو سال پہلے گرین پیس کے حامی کوپن ہیگن میں ڈینمارک ایگری کلچر کونسل کی عمارت میں گھس گئے تھے۔ جس کے بعد وہ چھت پر چڑھ گئے اور جینیاتی طور پر تیار کی جانے والی خوراک کے خلاف ایک بینر لہرا دیا تھا۔ ٹریڈ یونینز اور شہری حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف سخت کیے جانے والے قوانین سے مظاہرہ کرنے کا حق سلب ہو رہا ہے۔ گرین پیس پر بھاری جرمانہ عائد کیے جانے کے بعد ان تنظیموں نے فوجداری قوانین کی ان دفعات میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے جن کا مقصد دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنا ہے۔
کوپن ہیگن کی پولیس کا کہنا ہے کہ جولائی میں امریکی صدر بش ڈینمارک کے دورے کے دوران مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: ’سامراجیت مردہ بار‘۔ اس کے علاوہ کالے کپڑے پہنے نوجوان مظاہرین جنہوں نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے ڈینمارک کا پرچم جلا کر قانون توڑا تھا۔ لیکن پولیس نے پھر بھی مظاہرے میں خلل نہیں ڈالا۔ پولیس کہتی ہے کہ اب وہ ایسے موقع پر اپنا اختیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آچے کی تحریک آزادی کے حامیوں نے مظاہرہ کیا لیکن پولیس حرکت میں نہیں آئی۔ لیکن ان مثالوں سے گرین پیس کی تسلی نہیں ہوتی کیونکہ وہ راست اقدام کرنے کی قائل ہے اور ان قوانین کے تحت اسے مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||