’خطرے میں گھری دنیا کیلیے فکرمند‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو اردن کے تاریخی شہر پیٹرا میں دنیا کی منتخب اور نامور ہستیاں جمع ہورہی ہیں۔ ان میدان سیاست، فلم، سائینس اور سماجیات کے نمایاں نام شامل ہیں اور اس نشست کا مقصد آج کی دنیا کی درپیش مسائل کا حل سوچا جاسکے۔ عمان سے نامہ نگار جون لائن کی فراہم کردہ تفصیل کے مطابق ’بات بڑی سادہ سی ہے کہ دنیا کے ایک تاریخی اور پر فضا مقام پر اعلیٰ ترین دماغوں کو جمع کردو اور یہ دیکھو وہ کیا کرشمہ کرکے دکھاتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’جن لوگوں کو جمع کیا گیا ہے ان کو دیکھ کے لگتا ہے کہ انہیں اعلیٰ اور ارفع ترین لوگوں کی فہرست میں سے چنا گیا ہوگا۔ ان میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن، دلائی لامہ، ایکٹر رچرڈ گیئر، آرٹ اور سائنس کی دنیا کے نوبیل انعام یافتہ افراد شامل ہیں۔‘ انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں یہ لوگ ہوٹل کی دالانوں میں پیٹرا جانے والے سیاحوں سے گھل مل رہے ہیں۔ ان کے لیے ایجنڈا بھی بہت اعلیٰ پائے کا چنا گیا ہے۔ دو دن کے دوران انہیں عالمی امن سے لے کر ماحولیات تک کے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے اور ان کے دماغ کو فرحت دینے کے لیے ایک امن آرکسٹرا موسیقی کی دھنیں پیش کرے گا جس میں عرب موسیقار بھی ہیں اور اسرائیلی بھی۔ اس محفل کو ’خطرے سے دوچار دنیا‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اسے ذہنی تخلیقی عمل کا ایک ایسا تجربہ کہا جاسکتا جس کا نتیجہ بہت گھٹیا بھی ہوسکتا ہے اور بہت شاندار بھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||