’امریکی فائرنگ حادثہ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطالوی صحافی جولیانا سگرینا نے کہا ہے کہ ان کے لیے یہ تسلیم کرنامشکل ہے کہ عراق میں یرغمالیوں سے رہائی پانے کے بعد ان کے قافلے پر امریکی فوجیوں نے غلطی سے فائرنگ کی تھی۔ سگرینا نے بی بی سی کو بتایا کہ ہو سکتاہے کہ بغداد کے ہوائی اڈے پر تعینات امریکی فوجیوں کو ان کے قافلے کی آمد کے بارے میں معلوم نہ ہو لیکن ان کی حرکت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے پہلے انہوں نے اس امکان کی طرف اشارہ دیا تھا کہ امریکی فوجیوں نے جان بوجھ کر فائرنگ کی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے گاڑی کو ناکے کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھ کر اور وارننگ کے بعد گولی چلائی تھی۔ امریکی فوج نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ گولی سے اطالوی خفیہ سروس کے ایجنٹ نکولا کالیپاری ہلاک ہو گئے۔ انہوں نے سگرینا کی رہائی کے لیے یرغمالیوں سے مذاکرات کیے تھے۔ سگرینا نے بی بی سی نیوز کو بتایا وہ نہیں کہہ سکتیں کہ ’انہوں نے ہم پر اس طرح گولیاں کیوں چلائیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اسے صرف حادثہ نہیں کہا جا سکتا۔ ہم یہ نہیں مان سکتے ایسا ممکن نہیں‘۔ انہوں نے کہ اطالوی حکام کو معلوم تھا کہ ان گاڑی ہوائی اڈے کی سڑک پر آرہی ہے اور ان کا خیال ہے کہ انہوں نے امریکیوں کو بھی بتایا ہوگا۔ اس سے قبل انہوں نے سکائی اطالیہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا تھا کہ ایسا ممکن ہے کہ فوجیوں نے ان کو نشانہ بنایا ہو کیونکہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے رہائی کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے بائیں بازو کے اپنے اخبار میں لکھا ہے کہ یرغمالیوں نے ان کو رہا کرتے وقت محتاط رہنے کے لیے کہا تھا کیونکہ ان کے مطابق کچھ امریکی ان کی واپسی نہیں چاہتے۔ دریں اثناء روم میں دس ہزار افراد نے خفیہ سروس کے ہلاک ہونے والے ایجنٹ کی میت کا دیدار کیا ہے۔ ان کا جنازہ پیر کو ہوگا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس واقعے کے بعد اٹلی کی حکومت پر عراق سے فوجیں واپس بلانے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ اٹلی میں شدید مخالفت کے باوجود تین ہزار فوجیوں کو عراق بھیج دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||