’نیوز ویک‘ کی فروخت پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے ہفتہ وار انگریزی میگزین ’نیوز ویک‘، کے تازہ شمارے کی فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس کی تمام کاپیاں ضبط کرکے ضائع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ بائیس نومبر کو شائع ہونے والے شمارے کی فروخت پر پابندی کا سبب ’تہذیبوں کے ٹکراؤ، کے عنوان سے شائع ہونے والا مضمون بتایا گیا ہے۔ اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے جاری کردہ حکم میں کہا ہے کہ اس مضمون میں مسلمانوں اور ان کے مذہبی عقائد کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ اس شمارے میں قتل کیے جانے والے ڈچ فلمساز تھیو وان گو پر مضمون تھا اور اس میں ایک خاتون کی عریاں تصویر بھی شائع کی گئی ہے جس کے جسم پر قرآنی آیات درج ہیں۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں نے اس مضمون پر سخت اعتراضات کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے کہا ہے کہ مغربی میڈیا مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا رہا ہے اور ان کے عقائد کی توہین کر رہا ہے۔ مذہبی رہنماؤں کے مطابق ایسے مضامین شائع کرنے سے مسلمانوں اور مغرب میں خلیج بڑھ جائے گی۔ مجسٹریٹ طارق محمود پیرزادہ نے کہا کہ اس مضمون میں قابلِ اعتراض مواد ہے جو قرآن کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ وہ اشاعتی ادارے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا سوچ رہے ہیں تاہم انہوں نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ اسلام آباد میں ایک اخبار بیچنے والے نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بائیس نومبر کے شمارے کی پچاس فیصد سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||