کوفر بلیک: دہشت گردی ماہر مستعفیٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ماہر دہشت گردی کوفر بلیک نے استعفٰی دے دیا ہے۔ وہ پہلے سینئیر امریکی افسر ہیں جنہوں نے صدر بش کے دوبارہ انتخاب کے بعد امریکی انتظامیہ سے علیحدہ ہوئے ہیں۔ امریکی محکمۃ خارجہ نے کہا ہے کہ کوفر بلیک نئے پیشہ ورانہ مواقع تلاش کرنا چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ کوفر بلیک کو بین الاقوامی دہشت گردی کے بارے میں غلط رپوٹ دینے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تنقید کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے امریکی انتخابات سے دو ماہ پہلے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اسامہ بن لادن جلد ہی پکڑے جائیں گے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بش حکومت کے دوسرے دور کے آغاز پر ان کے سینئیر افسران کے درمیان خاصی ’تو تو‘ میں ہو گی۔ دریں اثناء صدر بش نے کہا ہے کہ وہ کیمپ ڈیوڈ میں اپنے قیام کے دوران یہ’سوچنا شروع` کریں گے کہ وہ اپنی پندرہ رکنی کابینہ میں کیا تبدیلیاں لائیں گے۔ دوسری طرف یہ افواہ بھی گردش میں ہے کہ بش انتظامیہ کے کئی ایک سینئیر ارکان مستعفی ہو جائیں گے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اٹارنی جنرل جان ایشکرافٹ بش حکومت کے دوسرے دور کے آغاز سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیں گے۔ اس کے علاوہ نامہ نگاروں کے مطابق وزیر خارجہ کولن پاول اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سربراہ ٹام رِج کے بارے میں بھی خیال ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||