سوڈان: سلامتی کونسل کی دھمکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کاونسل کی قرار داد میں سوڈان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر وہ دارفور میں وسیع پیمانہ پر جاری ظلم و ستم کو روکنےمیں ناکام رہا تو اس کے خلاف اقتصادی تادیبی پابندیاں عائد کی جائیں گی- قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اگر سوڈان نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا تو کونسل ایسے اضافی اقدامات کرنے پر غور کرے گی جن سے سوڈان کی تیل کی صنعت پر اثر پڑ سکتا ہے- قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک کمیشن مقرر کریں جو اس امر کی تحقیقات کرے کہ کیا دارفور میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں نسل کشی کے زمرے میں تو نہیں آتیں- قرار داد میں عرب ملیشیا جنجوید کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں پیش رفت نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ جنجوید پر بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام ہے- تشدد کی وجہ سے دارفور میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور دس لاکھ افراد کو اپنے گھروں کو چھوڑ کر فرار ہونا پرا ہے- سلامتی کونسل کے وہ ممبر ممالک جو تادیبی پابندیوں کے مخالف ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے نتیجہ میں سوڈان بین الاقوامی برادری سے تعاون ترک کرنے پر مجبور ہو جائے گا- چین نے جب قرارداد کے مسودہ پر اعتراض کیا تھا تو یہ خیال تھا کہ وہ اس پر اپنا حق تنسیخ استعمال کرے گا- لیکن کونسل میں ووٹنگ سے قبل بند کمرے میں چین اور امریکا کے مندوبین کی ملاقات ہوئی جس کے بعد چین نے پاکستان، الجزایر اور روس کے ساتھ اس ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا- گذشتہ جمعرات کو سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے کونسل پر زور دیا تھا کہ وہ یہ قرارداد جلد از جلد منظور کرے۔ اسی نوعیت کی ایک قراداد سلامتی کونسل نے جولائی میں منظور کی تھی لیکن اس میں اقتصادی پابندیوں کی وضاحت نہیں کی گئی تھی- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||