برطانیہ: دہشت گردی کے ملزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں انسدا دہشت گردی پولیس تین اگست کو گرفتار ہونے والے تیرہ افراد میں سے آٹھ کو مختلف قوانین کے تحت ملزم قراد دینے کے بعد مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر رہی ہے۔ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیے جانے والے افراد کے نام محمد نوید بھٹی، دھیرن بیرٹ، عبدالعزیز جلیل، عمر عبدالرحمٰن، جنید فیروز، ضیا الحق، قیصر شفیع اور ندیم محمد ہیں۔ ان افراد کی عمریں بیس سے بتیس سال کے درمیان ہیں۔ پولیس نے ان افراد پر کیمیائی یا دھماکہ خیز مواد اور ریڈیائی مواد کے ذریعے بد امنی پھیلانے کی سازش کرنے کا الزام لگایا ہے۔ تین اگست کو گرفتار ہونے والے تیرہ افراد میں سے دو کو کوئی الزام لگائے بغیر چھوڑ دیا گیا تھا۔ دو افراد سے انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت پوچھ گچھ ختم کر کے ایک مختلف قانون کے تحت دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ایک شخص پر غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی کے قانون کے تحت پولیس اِن افراد کو منگل کے بعد ان کے خلاف کسی الزام کے بغیر ان کو زیر حراست نہیں رکھ سکتی تھی۔ دھرن بیرٹ کے پاس سے مبینہ طور پر امریکہ میں نیو یارک سٹاک ایکسچینج اور آئی ایم ایف سمیت اہم مالی اداروں کی عمارات اور زہر، کیمیائی مواد اور دھماکہ خیز مواد کے بارے میں معلومات برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس کے مطابق ان لوگوں کے پاس ایسی معلومات تھیں جو سن دو ہزار کے دہشت گردی کے قانون کے تحت کسی ایسے شخص کے کام آ سکتی تھیں جو دہشت گردی کرنے کی تیاری کر رہا ہو یا اس نے ایسا کیا ہو۔ ان لوگوں کو لندن، لوٹن اور بلیکبرن کے شہروں میں چھاپوں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ تین اگست کو ہونے والے چھاپے پاکستان میں گرفتار کیے گئے کمپیوٹر کے ماہر نعیم نور خان کی گرفاتری کے بعد عمل میں آئے۔ خیال ہے کہ ان کے کمپیوٹر سے برطانیہ میں مقیم ان افراد کے نام اور پتہ معلوم ہو سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||