ہرات: لڑائی میں بائیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں جنگجوؤں اور گورنر اسماعیل خان کے حامیوں کے درمیان لڑائی میں بائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کابل میں وزارتِ دفاع نے بی بی سی کے نمائندے کو بتایا کہ ہرات میں ہونے والی لڑائی میں گورنر اسماعیل خان کے حامی دو کمانڈروں سمیت بائیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہرات میں ہونے والی یہ لڑائی افغانستان میں پائے جانے والے عدم استحکام کا ایک واضح ثبوت ہے۔ اسماعیل خان ملک کے مغرب میں سب سے طاقت وار مقامی رہنما تصور کئے جاتے ہیں لیکن حالیہ لڑائی میں ایک باغی کمانڈر نے ایک فوجی ہوائی اڈے شندند کا کنٹرول ان سے چھین لیا ہے۔ باغی کمانڈر امان اللہ خان نے کہا کہ ان کے آدمیوں نے شِندند ضلع پر قبضہ کر لیا ہے۔ گورنر خان کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ ان کے مخالفین نے ایک ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اس لڑائی کو ملک میں اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں رخنہ ڈالنے کی کوشش قرار دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ایک بیان میں باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعادہ کیا اور کہا کہ کابل سے نئی تربیت یافتہ افغان فوج کو ہرات میں دونوں گروپوں کے درمیان بفر قائم کرنے کے لیے بھیجا جائے گا۔ شندند دارالحکومت کابل سے چھ سو ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہرات کے شمال اور چشتی شہر سے بھی لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں۔ باغی رہنما امان اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھیوں نے گورنر خان کے چودہ حامیوں کو ہلاک اور بیس کو گرفتار کر لیا ہے۔ خبر رسان ایجنسی اے پی کے مطابق اس لڑائی میں سات باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گورنر اسماعیل خان کو صورتحال سے نمٹنے کا موقع دیا جائے گا۔ ہرات کے گورنر کو امیرِ ہرات بھی کہلاتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا رہا ہے کہ وہ ماضی میں کابل سے باہر صدر حامد کرزئی کا دائرہ اختیار بڑھانے میں ایک رکاوٹ تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||