فلپائن عراق سے فوج نکال لے گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلپائن کے نائب وزیر خارجہ رافیئل سیگس نے کہا ہے کہ عراق سے ہم اپنی فوج جس قدر جلد ممکن ہوا واپس بلا لیں گے۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب ایک فلپینو یرغمالی کا سر قلم کرنے کا مقررہ وقت قریب آرہا تھا۔ جن عسکریت پسندوں نے بدھ کے دن ٹرک ڈرائیور اینجلو ڈی لا کروز کو پکڑ لیا تھا، کہتے ہیں کہ اگر فلپائن نے فوج واپس نہ بلائی تو اسے ہلاک کردیا جاۓ گا۔ فلپائن کی فوج بیس اگست کو واپس جانے والی ہے لیکن عسکریت پسندوں کا مطالبہ ہے کہ بیس جولائی تک واپس بلا لی جاۓ۔ تاہم نائب وزیر خارجہ نے الجزیرہ ٹیلیوژن پر اپنے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ کس قدر جلد واپسی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ واپسی کا انحصار تیاری کے لیے درکار وقت پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جو بیان میں نے پڑھ کے سنایا ہے اس کا اس گروپ کے دل پر اثر ہوگا۔ فلپائن کی صدر گلوریا اریئو کی حکومت نے یہ مطالبہ رد کردیا تھا کہ یہ فوج اتوار تک واپس چلی جائے۔ الجزیرہ ٹیلیوژن نے بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں نے جنہوں نے اپنا نام عساکر اسلام، جیش خالد بن ولید بتایا ہے ڈی لا کروز کے قتل کی مدت چوبیس گھنٹے آگے بڑھادی تھی۔ فلپائن کے صرف اکیاون فوجی عراق میں ہیں لیکن مزید چار ہزار شہری امریکی فوجی اڈوں میں کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں۔ ڈی لا کروز کے اغوا کے بعد صدر اریئو کی حکومت نے مزید فلپینو باشندوں کو عراق جانے سے روک دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||