BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 July, 2004, 13:10 GMT 18:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
MI6 رپورٹ سے دستبردار
News image
ڈاکٹر جونز نے ٹونی بلیئر کی ہٹن انکوئری کے سامنے بیان کو چیلنج کیا ہے
برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کو عراق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات کے معاملے کو بڑھا چڑھاکر پیش کرنے پر برطانوی خفیہ اداوں کے دو اعلی افسروں نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے

برطانوی انٹیلیجنس کے ایک اور اعلی اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی پینوراما کو بتایا کہ برطانوی انٹیلیجنس کے ادارے ایم آئی سکس نے ہتھیاروں کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے جو وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے دعوؤں کو سہارا مہیا کرتی تھی واپس لے لی تھی

خفیہ اداورں کے اعلی اہلکاورں نے کہا کہ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے وسیع تبایی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق بیانات ہتھیاروں کے ماہرین کی رائے سے بلکل مسابقت نہیں رکھتے تھے۔

انٹلیجنس کے دو اعلی افسران نے بی بی سی پینوراما پروگرام میں وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے دعووں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

ریٹائرڈ ڈیفنس انٹیلیجنس سٹاف ڈاکٹر برائن جونز نے بی بی سی کے پینوراما کو بتایا کہ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کی طرف ہٹن انکوئری کے سامنے بیان کے بارے میں وہ’ ذہنی الجھاؤ‘ کا شکار ہیں۔

جان موریسن ، سابق ڈیپٹی چیف ڈیفنس انٹیلیجنس نے کہا کہ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کےعراق کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں دعووں پر وائٹ ہال میں سخت شکوک پائے جاتے تھے۔

انٹیلجنس کے دونوں اعلی افسران کے بیانات وزیر عظم ٹونی بلئیر کے عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں کیے گئے دعووں سے متصادم ہیں جن میں ٹونی بلئیر نے کہا تھا کہ عراق کے ہتھیار برطانیہ کے لیے خطرہ ہیں۔

ڈاکٹر جونز نے کہا کہ وہ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے ہٹن انکوئری کے سامنے عراق کے ہتھیاروں کے بارے میں بیان کسی بھی طرح خفیہ ادارں کے پاس ہتھیاروں کے بارے میں موجود معلومات کے ساتھ مسابقت نہیں رکھتا تھا۔

ٹونی بلیئر نے ہٹنں انکوئری کو بتایا تھا کہ عراق کے پاس وسیع تباہی کے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں بہت زیادہ معلومات اور شہادتیں ان کو دکھائی جا رہی تھی

ڈاکٹر جونز نے بی بی سی پینوراما کو بتایا کہ ان کے سٹاف میں سے کسی نے بھی عراق کے پاس وسیع ہتھیاروں کے بارے میں بہت زیادہ انٹیلیجنس رپورٹیں نہیں دیکھی تھی جن کا ذکر وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے ہٹن انکوئری کے سامنے کیا تھا۔

ڈاکٹر جونز نے کہا کہ اس کے سٹاف میں کسی کو بھی یہ نہیں پتہ تھا کہ عراق نے 1990 کی پہلی جنگ کے بعد کون کون سے مزید کیمیکل اور جراثیمی ہتھیار اکھٹے کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر جونز نے کہا کہ ایک اندازہ تھا کہ عراق کی پہلی جنگ سے پہلے جمع شدہ ہتھیاروں کا کچھ حصہ شاید ابھی تک عراق کی حکومت نے سنبھال کر رکھا ہوا ہو۔

ڈاکٹر جونز نے بتایا کہ ان کے ادارے کو عراق کی پہلی جنگ کے بعد کسی بھی کمیاوی یا جراثیمی ہتھیار کی پیدوار کا کوئی علم نہیں تھا۔

ڈاکٹر جونز نے ہٹن انکوئری کو بتایا تھا کہ عراق پر ہتھیاروں کی دستاویز گمراہ کن تھی کیونکہ اس دستاویز پر ڈیفنس انٹیلیجنس سٹاف کی رائے کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر موریسن نے پینوراما کو بتایا کہ جب ان کے عملے نے وزیر اعظم ٹونی بلئیر کو پارلیمنٹ کے سامنے یہ بیان دیتے ہوئے سنا کہ عراق کے پاس ہتھیار برطانیہ کے لیے خطرے کا سبب بن سکتے ہیں، تو اجتماعی ناپسندیدگی کی آہ نکلی تھی۔

ڈاکٹر موریسن کے مطابق وزیر اعظم کے بیانات ماہرین کی معلومات سے بہت زیادہ مختلف تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد