نواز کھوکھر کو قید اور جرمانے کی سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور سابق وزیر مملکت نواز کھوکھر کو لاہور میں احتساب عدالت کے ایک جج نے بدعنوانی کے ایک ریفرنس میں تین سال قید ، اٹھارہ لاکھ چھیانوے ہزار روپے جرمانہ اور دس سال کے لیے عوامی نمائندگی سے نااہلی کی سزا سنائی ہے۔ نواز کھوکھر پر الزام تھا کہ انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک سو پچاس کنال اراضی اپنے نام منتقل کرانے کی فیس اور یونین کونسل کی فیس جو اٹھارہ لاکھ چھیانوے ہزار روپے بنتی ہے بروقت ادا نہیں کی۔ یہ ریفرنس جسٹس غلام مجدد مرزا کے دور میں انیس سو چھیانوے میں دائر کی گیا جو احتساب کا عمل شرو ع ہونے کے ابتدائی ریفرنسوں میں شامل ہے۔ نواز کھوکھر اس ریفرنس میں ایک سال تک جیل میں رہ چکے ہیں۔احتساب جج کرامت علی ساہی کے فیصلہ کے مطابق نواز کھوکھر نے جو عرصہ جیل میں گزارا وہ ان کی قید کی مدت سے کم ہوجاۓ گا۔ احتساب جج نے نواز کھوکھر کے شریک پانچ ملزموں ، تحصیل داروں اور پٹواریوں کو رہا کردیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||