ای یو: حکمراں جماعتیں مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات میں براعظم یورپ کے کئی ملکوں میں ووٹروں نے حکمراں جماعتوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں ان جماعتوں کی کارکردگی بہتر رہی جو وسیع تر یورپی اتحاد سے شاکی ہیں۔ جرمنی میں حکمراں سوشل ڈیموکریٹس کو جنگ عظیم دوئم کے بعد سے بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسے صرف بائیس فی صد ووٹ ملے۔ اسی طرح برطانیہ میں بھی حکمراں لیبر پارٹی پر ووٹروں کی اکثریت نے اعتماد کا اظہار نہیں کیا بلکہ یوکے انڈیپینڈس پارٹی جو یورپی یونین سے علیحدگی کی حامی ہے رائے دہندگان کو اپنے حق میں قائل کرنے میں کامیاب رہی۔ فرانس اور اٹلی میں بھی کم و بیش ایسے رجحانات دیکھنے کو ملے۔ تاہم سپین میں نئی منتخب ہونے والی حکومت نے اس رجحان کو بدلا ہے۔ مجموعی طور پر یورپی پارلیمنٹ پر مرکزی دائیں بازو کے بلاک کا کنٹرول رہے گا۔ ان انتخابات میں ایک سو پچپن ملین ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یورپی پارلیمنٹ کے سبکدوش ہونے والے صدر پیٹ کاکس نے ان انتخابات کو براعظم کی تاریخ میں سب سے بڑا جمہوری عمل قرار دیا۔ تاہم اب تک انتخابات میں ووٹروں کی سب سے کم تعداد رہی۔ ووٹوں کی شرح چوالیس فی صد سے کچھ اوپر رہی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||