امریکی فوجی کو ایک سال قید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی جنگی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے جرم میں ایک امریکی فوجی کو عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ فوجی عدالت میں پہلی ہی پیشی پر جیریمی سووِٹس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ انہیں ایک سال قید، عہدے سے تنزلی اور بری کارکردگی پر عہدے سے برخاست کردیا گیا ہے۔ سووِٹس پر الزام تھا کہ انہوں نے بغداد کی ابو غریب جیل میں برہنہ عراقی قیدیوں کے ڈھیر کی تصاویر لی تھیں جن پر دنیا بھر میں شدید غم وغصہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ جیریمی سووِٹس نے عراقی عوام سے معافی مانگی ہے۔ چوبیس سالہ فوجی کے خلاف یہ کارروائی بغداد میں امریکی فوج کے صدر دفتر یا گرین زون کے ایک کمرے میں عارضی طور پر قائم کی گئی عدالت میں ہوئی۔ انہوں نے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی سازش، بدسلوکی اور فرائض سے غفلت کے الزامات کا اعتراف کیا ہے۔ سووٹس نے عدالت کو بتایا کہ سٹاف سارجنٹ ایوان فرائیڈ رک نے انہیں اس جگہ جانے کے لیے کہا تھا جہاں تمام برہنہ قیدیوں کے منہ ڈھانپ کر انہیں جمع کیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قیدیوں کو جمع کرنے سے قبل مارا پیٹا گیا تھا۔ اس سے قبل سٹاف سارجنٹ فرائیڈرک اور سپک چارلس عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ ان پر سوٹس سے بھی زیادہ سنگین الزامات ہیں تاہم انہوں نے عدالتی پیشی پر کسی جرم کا اعتراف یا اس سے انکار نہیں کیا۔ اب وہ اکیس جون کو عدالت میں پیش ہوں گے۔ مقدمہ کی سماعت کے لیے ایک فوجی جج جرمنی سے بغداد پہنچے ہیں۔ سات امریکی فوجیوں پر عراقی قیدیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دریں اثناء امریکہ میں تین سینیئر کمانڈر سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔ بی بی سی کی نامہ نگار ڈومیتھا لوتھرا کے مطابق امریکہ یہ عدالتی کارروائی عراق میں کرکے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ان معاملات سے شفاف طور پر نمٹا جارہا ہے۔ امریکہ دنیا کو یہ بھی دکھانا چاہتا ہے کہ یہ انفرادی نوعیت کے واقعات تھے اور ان سے مضبوطی سے نمٹا جائے گا۔ تاہم ریڈ کراس نے قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کے بارے میں ایک مرتبہ پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریڈ کراس کے ایک اعلٰی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ فروری میں پیش کی جانے والی رپورٹ کے باوجود بغداد کی ابو غریب جیل میں قیدیوں سے نمٹنے کے طریقۂ کار تشویش کا باعث ہیں۔ خبور رساں ادارے رائٹرز نے بھی بتایا ہے کہ جنوری میں اس کے تین رپورٹرز کو حراست میں لینے کے بعد امریکی فوجیوں نے ان کے ساتھ جنسی نوعیت کا غیر مناسب سلوک کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||