کانگریس: پاکستان میں ملا جلا ردِ عمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے بھارت میں کانگریس پارٹی کی جیت پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئی قیادت سے دونوں مالک میں جاری امن کا عمل متاثر نہیں ہو گا۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے، جو اگلے ہفتے امریکہ کے دورے پر جا رہے ہیں، کہا ہے کہ وہ کانگریس کی سربراہی میں بنائی جانے والی نئی حکومت کے ساتھ امن کا وہ عمل آگے بڑھانے کے منتظر ہیں جو واجپئی کی حکومت کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ پہت سے پاکستانیوں نے بی جے پی کی شکست پر خوشیاں منائی ہیں۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ بی جے پی چاہی جتنی اعتدال پسند تھی لیکن تھی تو قوم پرست پارٹی۔ لیکن اس کے برعکس پاکستان میں یہ تشویش بھی پائی جاتی ہے کہ کیا کانگریس امن کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ پاکستان کے پاس گاندھیوں کے دورِ اقتدار کی اچھی اور بری دونوں طرح کی یادیں ہیں۔
سونیا گاندھی کی ساس اندار گاندھی کا نام ہی پاکستانیوں کے دل میں 1971 کی تلخ یاد لے آتا ہے جب پاکستان بھارت سے جنگ ہارا تھا اور مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا۔ راجیو گاندھی کے متعلق دونوں طرح کے جذبات ہیں۔ راجیو کے دور میں ہی کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک شروع ہوئی تھی۔ تاہم چند مبصرین کا خیال ہے کہ راجیو گاندھی کے پاکستان کے فوجی آمر ضیاالحق اور ان سے کے بعد آنے والی حکومتوں سے بہتر تعلقات تھے۔ یہ کانگریس پارٹی ہی تھی جس نے پاکستان کے ساتھ آٹھ نکاتی پلان پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کی وجہ سے حالیہ امن کا عمل آگے بڑھا۔ اب پاکستانیوں کے ذہن میں جو سوال ہے وہ یہ ہے کہ اگر سونیا گاندھی وزیرِ اعظم بن جاتی ہیں تو کیا وہ واجپئی کی شروع کی ہوئی امن کی پالیسی آگے بڑھائیں گی؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||