BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بہن نے خود کش حملے پر اکسایا‘
پروین
پروین پر اپنے بھائی کو دہشتگردی پر اکسانے کا الزام ہے
ایک برطانوی عدالت کو بتایا گیا ہے کہ ایک ٹیچر نے اپنے بھائی کو اسرائیل میں خود کش بم حملہ کرنے پر اکسایا۔

چھتیس سال کی پروین شریف جو ڈربی میں ٹیچر ہیں انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے اپنے ستائیس سال کے بھائی کودہشت گردی پر اکسایا تھا۔

شریف کی لاش گزشتہ برس تل ابیب میں ہونے والے بم دھماکے کے بارہ روز بعد سمندر سے برآمد ہوئی تھی۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا تھا کہ لندن کے آصف حنیف نے خود کو بم سے اڑا لیا۔ لیکن شریف اپنا بم چلانے میں ناکام ہونے کے بعد سے لاپتہ تھا۔29 اپریل 2003 کو ہونے والے اس حملے میں تین افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے تھے۔

شریف کی اہلیہ طاہرہ تبسم ان کے بھائی زاہد اور بہن پروین نے دہشت گردی کے بارے میں اطلاعات فراہم کرانے میں ناکامی سے متعلق بتائے جانے والے مقدمے میں خود کو بے قصورقرار دیا ۔

وکیلِ استغاثہ جوناتھن لیڈلا نے لندن میں اولڈ بیلی عدالت کو بتایا کہ وہ حماس کی فہرست میں شامل ایسے پہلے برطانوی تھے جنہوں نے خود کو خود کش حملوں کے لئے پیش کیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ لوگ دس اپریل کو لندن سے شام کے لئے یہ کہہ کر روانہ ہوئے کہ وہ قرآن کی تعلیم کے لئے جا رہے ہیں اور دھماکے سے کچھ روز قبل شریف نے اپنی بیوی طاہرہ کو ایک ای میل لکھی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے تینوں بچوں کا خیال رکھے اور ان کی اچھی پرورش کرے۔

اسی ای میل میں شریف نے اپنے بھائی زاہد کو لکھا کہ آگے آنے والا وقت دشوار ہے اور یہ کہ وہ تمام ثبوت مٹادے۔

شریف کی بہن پروین نے اسے جواب میں خط لکھا وقت گزر رہا ہے اور ہم سب کو حقائق کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اب کسی طرح جذباتی یا کمزور ہونے کا وقت نہیں ہے، جب ہم دوبارہ ملیں گے تو ایسا لگے گا جیسے نصف دن ہی گزرا ہے۔

لیڈلا نے کہا کہ یہ واضح ہو گیا کہ پروین اپنے بھائی کی حوصلہ افزائی کر رہی تھی اور اس کے ارادے مستحکم کرنا چاہتی تھی اور اسی لئے اسے اپنی حمایت کا یقین دلا رہی تھی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ پروین عمر کے ارادوں سے آشنا تھی اوراس نے زندگیوں کے نقصان کو نہیں روکا۔

نئے قوانین کے تحت یہ پہلا مقدمہ ہے جو عوام پر یہ فرض عائد کرتا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دہشت گردی کے ممکنہ حملے کے بارے میں چاہے اس کے رابطے بیرونی ملکوں میں ہوں پولیس کو مطلع کریں ۔

توقع ہے کہ یہ مقدمہ پانچ ہفتوں تک جاری رہے گا۔ عمر کے والد محمد شریف پاکستان سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے اور ڈربی میں کامیابی سے اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ عمر شریف ان کے چھ بچوں میں سے ایک ہے۔

طاہرہ سے عمر کی ملاقات لندن کے کنگز کالج میں ہوئی تھی جہاں دونوں ریاضی کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔

1996 میں دونوں نے شادی کر لی اور اب ان کے تین بچے ہیں دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔ عمر اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکے تاہم عربی سیکھنے اور مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے وہ تین مرتبہ شام گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد