زرداری: سوئٹزرلینڈ جانےکیلیے مہلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کےشوہر آصف علی زرداری کو پاکستانی حکومت نے منی لانڈرنگ یعنی کالے دھن کے کیس میں سوئٹزرلینڈ جانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق وہ بیمار ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں اسلام آباد سے کراچی کا سفر کرنے سے بھی منع کر رکھا ہے اس لیے انہوں نے حکومت کو جواب دیا ہے کہ وہ موجودہ بیماری کی صورت میں اور اپنے وکیلوں سے مشورے کے بغیر سوئٹزرلینڈ جانے کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور انہیں اس فیصلے کے لیے مہلت درکار ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے پیر کی شب نشر ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان نے آصف زرداری کو سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے تمام سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اس مقدمے میں اپنی صفائی پیش کر سکیں۔ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ انہیں بھی یہ اطلاع ٹی وی ہی کی خبر سے ملی ہے کہ آصف علی زرداری کو سوئس عدالت میں بائیس اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ انہیں حکومت پاکستان اور نہ ہی سوئس عدالت سے باقاعدہ طور پر کوئی اطلاع دی گئی ہے۔ فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس خبر کے نشر ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی آصف علی زرداری کے وکلاء ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے۔ تاہم انہیں باضابط طور پر سرکاری ذرائع سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ اسلام آباد سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت نے جیل میں آصف زرداری کے پاس حکومتی نمائندہ بھیجا ہے تا کہ ان سے معلوم کیا جا سکے، کہ کیا وہ سوئیز عدالت میں خود پیش ہونا چاہتے ہیں؟ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری کو سوئٹزر لینڈ کے تحقیقاتی جج دانیل دیو نے گزشتہ سال اگست میں چھ چھ ماہ کی معطل سزا اور پچاس پچاس ہزار ڈالر جرمانے کی سزا کے ساتھ ان کو دو ملین ڈالر حکومت پاکستان کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ سوئس عدالت نے قرار دیا تھا کہ مختلف سوئس بینکوں میں ان کی گیارہ ملین ڈالر سے زائد رقم جمع ہے جو کہ مبینہ طور پر انہوں نے دو سوئس کمپنیوں کو پاکستان میں دیئے گئے ٹھیکوں کے بدلے ملنے والے ’ کک بیکس‘ اور کمیشن سے حاصل کی تھی۔ سوئس تحقیقاتی جج نے بینکوں میں جمع رقم پاکستان سرکار کو واپس کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔ بے نظیر بھٹو اور آصف زرداری سوئس بینکوں میں قائم ان سے منصوب کردہ بنک اکاؤنٹس اور جمع شدہ رقوم سے لا تعلقی ظاہر کرتے رہے ہیں اور کہتے رہے ہیں کہ پاکستان حکومت نے ان پر جعلی مقدمات بنا رکھے ہیں۔ پاکستان میں دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والی پہلی خاتون، بے نظیر بھٹو اس وقت خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں جبکہ ان کے شوہر آصف علی زرداری پانچ نومبر سن انیس سؤ چھیانوے سے مسلسل قید میں ہیں۔ پاکستان میں مختلف حکومتوں نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پر متعدد مقدمات قائم کر رکھے ہیں جس میں بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ سوئس کمنیوں کو ٹھیکہ دینے کے مقدمے میں پاکستان کی ایک عدالت نے بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر کو سزا سنائی تھی لیکن سپریم کورٹ نے وہ سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے اس مقدمے کی نئے سرے سے دوبارہ سماعت کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ مقدمہ راولپنڈی کی خصوصی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||