امریکہ میں خفیہ مراسلہ جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں وائٹ ہاؤس نے اس دستاویز کو عام کردیا ہے جس میں صدر بش کو سن دو ہزار ایک میں گیارہ ستمبر کے حملوں سے پہلے ہوائی جہازوں کی ممکنہ ہائی جیکنگ سے خبردار کیا گیا تھا۔ یہ دستاویز صدر بش کو حملوں سے پانچ ہفتے پہلے دی گئی ایک بریفنگ کے بارے میں ہے اور اس سے بش انتظامیہ کے ان دعوؤں کے بارے میں شکوک پیدا ہوگئے ہیں کہ ان حملوں کی پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی۔ وائٹ ہاؤس نے ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے دباؤ پر یہ دستاویز جاری کی ہے جو صدر بش کو دی گئی انٹیلی جنس بریفنگ سے متعلق ہے۔بظاہر اس سے بش انتظامیہ کے ان حملوں کی اطلاع نہ ہونے کے دعوے کی تردید ہوتی ہے کہ اس کو القاعدہ کی طرف سے امریکہ کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کی کوئ اطلاع نہیں تھی۔ اس دستاویز کے مطابق ایف بی آئی نے جہازوں کی ہائی جیکنگ کے بارے میں مشکوک سرگرمیاں نوٹ کی تھیں۔ دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سراغ رساں ادارے اس اطلاع کا بھی جائزہ لے رہے تھے کہ اسامہ بن لادن کے بعض پیروکار امریکہ کے اندر دھماکہ خیز مواد کے ذریعے حملے کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس نے یہ بتانے سے انکار کردیا ہے کہ صدر بش نے ان اطلاعات پر کیا اقدامات کیے یا ان کا کیا ردعمل تھا۔تاہم وہائٹ ہاؤس کے سینیر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دستاویز سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صدر کو حملوں سے پہلے خبردار نہیں کیا گیا تھا۔ دستاویزسے بظاہریہی معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ، بقول صدر بش کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس کے ، عمومی اور پرانی معلومات سے بہت زیادہ صدر کو بتایا گیا تھا۔ اس دستاویز کو اختتام ہفتہ پر تعطیلات کے دوران ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب ہوسکتا ہے کہ بہت سے امریکیوں کو اس کا پتہ نہ چل سکے اور ممکنہ طور پر ایسا اتفاقیہ نہیں ہوا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس دستاویز کے عام ہونے سے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے پر شک کا اظہار کیا جائے گا جس کے مطابق گیارہ ستمبر کے حملوں کے بارے میں پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||