عراق: اقتدار کی جوڑ توڑ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تمام عراقی جماعتیں یکم جولائی کے انتقال اقتدار کے لیے انتہائی سرگرمی سے کوششیں کررہی ہیں اور عراق کے آئندہ کے رہنماؤں کی کوشش ہے کہ عوام میں گہری جڑیں بنائی جا سکیں۔ دوسری جانب امریکی اپنی اتحادی انتظامیہ کو تحلیل کرے اقتداراعلیٰ منتقل کرنے اور پوری دنیا میں اپنا سب سے بڑا سفارتخانہ بغداد میں قائم کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ پیر کے روز جس عبوری آئین پر دستخط ہوئے وہ عراق میں عبوری مدت کے لیے قانونی اور انتظامی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے لیکن اس کے باوجود ایک اہم سوال یہ باقی رہ گیا ہے کہ وہ کون سی عراقی حکومت ہوگی جس کو امریکی اقتدار منتقل کریں گے۔ صورتحال اس وقت اس تقریب کی سی ہے جس کے لیے انتظامات مکمل کیے جارہے ہیں، سجاوٹ پوری ہے لیکن تقریب کے شرکاء کا کچھ نہیں پتہ کہ وہ کون ہوں گے۔عبوری آئین اس کی کوئی نشاندہی نہیں کرتا کہ عارضی حکومت کیسے بنے گی کیونکہ یہ معاملہ اقوام متحدہ پر ڈال دیاگیا ہے۔ قیاس آرائیاں یہ کی جا رہی ہیں کہ موجودہ عراقی عبوری انتظامیہ کو چار پانچ گنا بڑھا دیاجائیگا اور پھر یہ لوگ ایک حکومت کا انتخاب کریں گے۔لیکن اس کا حتمی فیصلہ عراق کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی لخدر براہیمی کو کرنا ہے۔ وہ جلد ہی عراق واپس آنے والے ہیں تاکہ حکومت بنانے کا ایسا طریقۂ کار مرتب کرسکیں جو سب سے بڑھ کر عراقیوں کو قابل قبول ہو اور پھر امریکی بھی اس پر راضی ہوں۔ دوسری جانب سلامتی کی صورتحال بھی مخدوش ہے اور گزشتہ کچھ روز کے واقعات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ عراق کے مختلف نسلی اور مذہبی گروہوں میں بہت تھوڑی سی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد پایا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||