القاعدہ اراکین گرفتار: یمنی دعوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یمنی سکیورٹی افواج نے دعوی کیا ہے کہ اس نے القاعدہ کے ایک مقامی لیڈر سمیت دو القاعدہ اراکین کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق عبدالرؤف ناسب اور مصر کے سعید امام شریف کو تقریباً درجن بھر شدت پسندوں کے ساتھ یمن کے جنوبی صوبے ابیان سے ایک چھاپے کے دوران حراست میں لیا گیا ہے۔ یمن کے جنوبی صوبے ابیان کے ایک نواحی علاقے میں فوجیوں نے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہوۓ بدھ کو چھاپا مارا تھا۔ القاعدہ اراکین کے خلاف یمنی مہم میں امریکہ پیش پیش ہے جو ایک عرصے تک خود القاعدہ کے دہشت گرد حملوں کا شکار رہا ہے۔ حکام کے مطابق ، سکیورٹی اہل کاروں نے ایک طویل عرصے تک اس کمیں گاہ کا گھیراؤ کئیے رکھا جس میں خیال تھا کہ دہشت گردوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ یمن کی حزب مخالف جماعت الصلاح کے مطابق ان دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے کے لئیِے جمعہ تک کا وقت دیا گیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ عبدالرؤف ناسب محمد حمدی ال- احادل کے محافظ رہ چکے ہیں۔ عبدالرؤف ناسب پر مبینہ طور پر الزام ہے کہ انہوں نے ان دس دہشت گردوں کو گزشتہ برس عدن کی جیل سے فرار ہونے میں مدد فراہم کی تھی جن پر سن دو ہزار میں یمن میں امریکی جنگی بحری جہاز پر بمباری کا شبہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عبدالرؤف ناسب گزشتہ نومبر میں ایک کار پر کئیے گئے امریکی میزائیل حملے میں بچ جانے والے القاعدہ کے واحد رکن ہیں۔ امریکی افواج نے یہ میزائیل حملہ مشرقی یمن میں ایک گاڑی پر کیا تھا جس کے بارے میں خیال تھا کہ اس میں القاعدہ کے چھ مشتبہ کارکن سوار ہیں۔ جبکہ اس چھاپے کے دوسرے گرفتار شخص سعید امام شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مصر کے اسلامک جہاد گروپ کے بانی ہیں جسکی قیادت ایک عرصے تک القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کے دائیں بازو کہلانے والے ایمن الزواہری کے ہاتھ تھی۔ یہ چھاپہ یمنی حکومت کو ملنے والی ان اطلاعات کی کڑی ہے جن میں کہا جا رہا ہے کہ دہشت گرد اندرون یمن حملوں کی تیاری میں مشغول ہیں۔ ان خبروں کے بعد سے سرکاری عمارتوں اور غیر ملکی اداروں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||