البرادی ایرانی تعاون پر مطمئن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے اسلحہ کے نگراں ادارے انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے سربراہ البرادی نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے پر ایران کے تعاون کی تعریف کرتے ہوئے اسے ایک ’عظیم تبدیلی‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہم واضح طور پر صحیح سمت میں جا رہے ہیں‘۔ گزشتہ ہفتے آئی اے ای اے نے ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تفصیلات فراہم نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایران نے گزشتہ سال اپنے جوہری پروگرام کی مکمل تفصیلات فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ امریکہ ایران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش میں ہے تاہم ایرانی حکومت کا دعوٰی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف اور صرف پر امن مقاصد کے لئے ہے۔ البرادی نے کہا ’مجھے امید ہے کہ اگر مستقبل میں ایران اسی طرح تعاون کرتا رہا تو بالآخر اس کا اچھا نتیجہ نکلے گا‘۔ انہیں اس بات کا پورا یقین تھا کہ ایران اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ تاہم انہوں نے اگلے ہفتہ تہران میں ادارے اور حکام کے مابین ملاقات کے حوالے سے ادارے کے لائحۂ عمل پر بیان دینے سے گریز کیا۔ گزشتہ ہفتہ بی بی سی کو ادارے کی جانب سے ملنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایران نے بم میں استعمال ہونے والا مادہ تیار کرنے والی مشین کے متعلق معلومات فراہم نہیں کی ہیں اور نہ ہی دو مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں یورینیم کی موجودگی کا امکان ہے۔ ایران کا کہنا ہے ادارے کو یورینیم اور پولونیم کے جو اجزاء ملے ہیں وہ محض قانونی طور پر جائز جوہری پروگرام میں استعمال ہوئے ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ تہران کے دعووں کی تصدیق کے لئے پاکستان سے رابطے میں ہے۔ ادارے نے ایران کی جانب سے سنٹریفیوج کی تیاری اور تجربے پر پابندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||