افغان پناہ گزین پروگرام شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو وطن واپس بھیجنے کا پروگرام دوبارہ شروع کر رہی ہے۔ادارے نے یہ پروگرام گزشتہ برس اس وقت ملتوی کر دیا گیا تھا جب اس کے عملے کی ایک فرانسیسی شہری کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس سال وہ چار لاکھ افغانوں کو وطن واپس بھیجنے میں مدد کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ تاہم غیر سرکاری تنظیموں کے عملے کے تحفظ کا معاملہ اب بھی تشویش ناک ہے۔ چار ماہ قبل بیتیاں گویسلارڈ کو شہر غزنی میں اقوام متحدہ کی ہی گاڑی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ان کی ہلاکت سے قبل انسانی حقوق کے کارکنوں پر حملے ہو رہے تھے ۔ان کی ہلاکت کے لئے حکومت مخالف شدت پسندوں کو ذمے دار ٹھرایا گیا تھا۔ تاہم انکی ہلاکت کے فوراً بعد جنوبی اور مشرقی افغانستان میں ایجنسی کی کارراوائیاں ملتوی کر دی گئی تھیں۔ پاکستان میں اس وقت پندرہ لاکھ اافغانی پناہ گزین موجود ہیں۔ایجنسی کا خیال ہے کہ وہ وطن واپس بھیجنے کے سلسلے کو دوبارہ شروع کر سکتی ہے ۔واپس افغانستان جانے والے پناہ گزینوں کو کچھ نقد رقم اور سفر کا خرچہ دیا جائے گا۔ ان پناہ گزینوں کے لئے تمام استقبالیہ مراکز پر بین الاقوامی عملہ موجود ہوگا۔ ایجنسی برائے پناہ گزین کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے یہ کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ احتیاطی حفاظتی اقدامات کرنے اور پاکستان و افغانستان کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کیا ہے کہ امدادی کارکنوں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||