آسکرز کی شام بس اک زرا انتظار! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتوار کی رات کو لاس اینجلیز میں ہونے والی اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب کی تیاریاں اپنے حتمی مراحل میں پہنچ رہی ہیں۔ لیکن آسکر کی رات سے پہلے ابھی دو انعامی تقاریب باقی ہیں۔ سالانہ "گولڈن راسپبیری اوارڈز" سن دو ہزار تین میں فلموں میں بدترین کارکردگی کرنے والوں کو آج یعنی ہفتے کی شام لندن کے وقت کے مطابق ساڑھے چھ بجے انعامات دئیے جائیں گے۔ اور پھر شام ڈھلے سانٹا مونیکا کے ساحل پر "انڈیپنڈنٹ اسپرٹ ایوارڈز" کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جن کے ٹھیک چوبیس گھنٹے بعد ہالی ووڈ میں "آسکرز" کی تقریب کا آغاز ہوگا۔ یاد رہے کے، آسکر ایوارڈ کے بیشتر نام وہی ہیں جو آج ہونے والے "انڈیپنڈنٹ اسپرٹ ایوارڈز" کے لئیے نامذد کئیے گئے ہیں۔ جیسے "لاسٹ ان ٹرانسلیشن کی ہدایت کارہ صوفیہ کپولا، مانسٹر اداکارہ چارلزی تھیرن، اور برطانیہ کے سر بین کنگزلے۔ نامذد کی گئی فلموں کا انتیخاب بارہ افراد کی ایک کمیٹی کے تحت کیا گیا ہے۔ اور انعام دینے والے ہی نہیں بلکہ پانے والے بھں آرکیسٹرا کے شور میں آواز کے ڈوب جانے کے خطرے کے بغیر اپنے احساسات کے اظہار کر سکیں گے۔ اس تقریب کا سب سے اہم یا دلچسپ خاکہ وہ ہوگا جس میں آسکر کے لئے نامذد کئے گئے افراد کی نقل نغموں کے انداز میں پیش کی جاۓ گی۔ اور ظاہر ہے کے "گولذن راسپبیری اوارڈز" یا بد ترین کارکردگی پر دئیے جانے والے انعامات کی ساکھ "انڈیپنڈنٹ اسپرٹ ایوارڈز" سے تو میل کھاۓ گی ہی جسے پانے کے لئیے کوئی تیار نہ ہو گا۔ اور اس بار کی بدترین فلموں میں سر فہرست ہے، بین افلیک اور جنیفر لوپیز کی فلاپ فلم "گگلی" ہے جسے بدترین پکچر، اور بدترین اداکار اور اداکارہ کے لئے نو ایوارڈ حاصل ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ آسکر انعامات فلموں کی دنیا کے سب سے بڑے انعامات تصور کئیے جاتے ہیں۔ لیکن فی الحال امریکی زرائع ابلاغ کی ساری توجہ میل گبسن کی متنازعہ فلم "دی پیشن" پر مرکوز ہے۔ جبکہ "دی لارذ آف دی رنگز: دی رٹرن آف دی کنگز" کو اب تک آسکر کی دوڑ میں گیارہ نامذدگیاں حاصل ہو چکی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||