مجھے طلاق نہیں دی گئی :شائستہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چند ماہ قبل پسند کی شادی کے بعد خاندانی تنازعات کی وجہ سے علیحدہ ہو جانے والے کی جوڑے شائستہ عالمانی اور بلخ شیر مہر کی جمعرات کو سندھ ہائی کورٹ میں پیشی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کو بعض درخواستوں کی سماعت کے تحت دونوں کو عدالت میں طلب کیا تاہم شائستہ تو کورٹ میں پیش ہوئیں لیکن بلخ شیر غیر حاضر رہے۔ ان کی غیر موجودگی پر ایڈوکیٹ جنرل نے پولیس کی ایک رپورٹ پیش کی جس سے معلوم ہوا کہ وہ لاہور چلے گئے ہیں ۔ تاہم شائستہ نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ رات بلخ نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور بتایا تھا کہ پولیس کے ایک سپرنٹنڈنٹ نے انہیں فون پر دھمکیاں دی ہیں۔ شائستہ کا کہنا ہے کہ انہیں مہر نے طلاق نہیں دی ہے۔ شائستہ اور ان کے شوہر بلخ شیر اپنی جان کو لاحق خطرے کے باعث سکھر سے منتقل ہوگۓ تھے مگر کچھ عرصے بعد واپس آگۓ تھے۔ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کی اس معاملے ذاتی دلچسپی کے بعد شائستہ کو کراچی منتقل کر دیا گیا تھا۔ شائستہ اب کراچی میں پولیس کی حفاظت میں رہ رہی ہیں۔ عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ بلخ شیر کو سولہ مارچ کو عدالت میں پیش کیا جاۓ تاکہ شائستہ کی طلاق کے معاملے کی وضاحت کی جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||