جوہری پروگرام پرمذاکرات شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے شمالی کوریا سے دوبارہ کہا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیار کو تلف کر دے۔ امریکی سفیر جیمز کیلی نے شمالی کوریا سے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنا کا مطالبہ بیجنگ میں چھ ملکی مذاکرات کے آغاز پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا جوہری پروگرام کو ایسے ختم کرے کہ جس کی تصدیق بھی ہو سکے اور اس کو دوبارہ شروع بھی نہ کیا جا سکے۔ شمالی کوریا کے نمائندے نے مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ وہ اپنے رویے میں لچک پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اپنے اصولوں پر قائم رہے گا۔ ان چھ ملکی مذاکرات میں شمالی کوریا اور امریکہ کے علاوہ جنوبی کوریا، چین، روس اور جاپان کے مندوبین بھی شرکت کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے بیجنگ میں نامہ نگار نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں پیش رفت کی راہ میں سب سے بڑی شمالی کوریا کا اس بات سے انکار ہے کہ وہ یوریمنیم افزودہ کرنے کا پروگرام چلا رہا ہے۔ شمالی کوریا ینگبیان میں قائم اپنے پلوٹونیم پلانٹ میں کام کو روکنے کے عوض اقتصادی امداد اور سفارتی سطح پر تسلیم کئے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ شمالی کوریا ان مذاکرات سے مثبت نتائج نکلنے کی امید کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ شمالی کوریا اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ان مذاکرات میں اپنے رویے میں لچک دکھانے کے لیے تیار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||