’رائے دہی پچاس فیصد رہی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اکیس فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں رائے دہی کا تناسب ملک بھر میں پچاس فیصد رہا جبکہ دارالحکومت تہران میں اٹھائیس فیصد رائے دہندگان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ رائے دہی کی یہ شرح پچیس برس قبل ملک میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد ہونے والے تمام تر انتخابات میں سب سے کم ہے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق ملک کے قدامت پرست حلقوں کو ان انتخابات میں نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دارالحکومت تہران تک میں ایک واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔ تہران میں جہاں اصلاح پسندوں کا گڑھ ہے ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب صرف اٹھائیس فیصد رہا۔ کچھ اصلاح پسند ووٹروں کو ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے پر اکساتے رہے۔ جمعہ کو ملک میں دو سو نوے نشتوں پر مشتمل پارلیمان کے انتخابات میں اب تک ایک سو چورانوے نشتوں کے نتائج کا اعلان کیا گیا ہے جس میں ایک سو تینتیس نشتوں پر قدامت پسند امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔ ملک کے اعلیٰ ترین رہنما اور روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ان انتخابات کو ایران کے دشمنوں کی شکست قرار دیا ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی طرف سے ان انتخابات پر کی جانے والی تنقید یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل منصفانہ اور آزادانہ قرار دیا ہے۔ ملک کے سرکاری ٹیلی ویژن قوم سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ نے کہا کہ جن لوگوں کو انتخابات میں مسترد کر دیا گیا ہے وہ امریکی، صیہونی اور ایران دشمن تھے۔ ایران کے قدامت پسندوں کو چار سال قبل ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا۔ جمعہ کو ہونے والےانتخابات سے پہلے شوری نگہبان نے دو ہزار اصلاح پسند امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا تھا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ ’امریکی استعمار‘ کی طرف سے ان انتخابات پر ظاہر کئے جانے والے شک و شبہات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اصلاح پسندوں کے مطابق تہران میں تیس فیصد سے کم لوگوں نے ووٹ ڈالے جب کہ ملک بھر میں ووٹ ڈالنے والے لوگوں کی تعداد پچاس فیصد سے کم رہی۔ تاہم ووٹ ڈالنے والوں کی شرح کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔ اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق کوئی خواتین امیدوار کامیاب نہیں ہوسکی۔ سابق پارلیمان میں تیرہ خواتین شامل تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||