BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 February, 2004, 02:46 GMT 07:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران میں متنازعہ انتخابات آج
آج ایران میں انتخابات ہو رہے ہیں
جمعہ کو ایران میں مجلسِ شوریٰ کے انتخابات ہو رہے ہیں جن میں سخت گیر موقف کے حامل لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ پارلیمان پر کنٹرول حاصل کر لیں گے۔

اصلاح پسند جنہیں سن دو ہزار کے انتخابات میں فتح حاصل ہوئی تھی، کہتے ہیں کہ قدامت پسندوں کی واپسی اس لئے ناگزیر ہے کہ شورائے نگہبان نے لگ بھگ ڈھائی ہزار اصلاح پسند امیدواروں کو انتخابات میں حصہ لینے سے نا اہل قرار دے دیا تھا۔

ایران کے کئی معروف دانشوروں اور صحافیوں نے ان متنازعہ انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے اور اصلاح پسندوں کی ایک بڑی جماعت نے ان کو محض ایک ڈھکوسلا قرار دیا ہے۔

ایران کے ایک مذہبی رہنما نے جو حکومت کے مخالف سمجھے جاتے ہیں کہا ہے کہ وہ جمعہ کو ووٹ نہیں ڈالیں گے۔

توقع ہے کہ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد بھی ان انتخابات کا بائیکاٹ کرے گی اور حکومت کی طرف سے منعقدہ رائے عامہ کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ صرف تیس فیصد افراد کے ووٹ ڈالنے کی توقع ہے۔

اصلاح پسندوں کی سب سے بڑی جماعت مشارکت فرنٹ اپنے اہم ترین امیدواروں کی نااہلی کے بعد ان انتخابات سے باہر ہو جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

جمعرات کو سخت گیر موقف والی عدلیہ نے ملک کے دو معروف اخباروں کی اشاعت محض اس بنا پر بند کر دی تھی کہ ان دونوں نے وہ خط شائع کر دیا تھا جس میں رہبرِ اعلٰی آیت اللہ علی خامنائی پر تنقید کی گئی تھی۔

صدر محمد خاتمی کے لئے جو چیز امتحان سمجھی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ووٹر اصلاح پسندوں کے ان چند دھڑوں کو ووٹ دیں گے جو انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں یا پھر ان کے خلاف بغاوت کر دیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد