’انتخابات کے لئے فضا سازگار نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے لئے اقوامِ متحدہ کے نئے ایلچی نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے لئے تاریخ طے کرنا ابھی ممکن نظر نہیں آتا۔ یہ الیکشن اس سال موسمِ سرما میں ہونے تھے۔ جین ارنالٹ نے کہا کہ منصوبے کے مطابق جون میں انتخابات کرانے میں سیکیورٹی ایک بڑا مسلہ ہے۔اسکے علاوہ سیاسی آزادی اور لوگوں کو غیر مسلح کرنے کا سست عمل بھی اہم وجہ ہے۔ قبل ازیں سابق حکمران طالبان کے ایک رہنما نے دھمکی دی تھی کہ اگر افغانیوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا تو انھیں حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم افغانستان میں نیٹو کی قیادت والی امن افواج کے سربراہ نے کہا کہ انکے خیال میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات اب بھی ہو سکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل رِک ہلیر نے کہا ہمارے خیال میں سیکیورٹی کے حالات بہتر ہو رہے ہیں اور اتنے بہتر ہو جائیں گے کہ آزادانہ طور پر انتخابات کرائے جا سکیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا ہے کہ اس وقت افغان انتخابات کے حوالے سے صورتِ حال واضح نہیں ہے ۔امریکی حکام نے حال میں کہا تھا کہ الیکشن ملتوی کئے جانے چاہیں لیکن افغان حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا یہ الیکشن جون میں ہی ہونگے۔ جین ارنالٹ نے کہا کہ کہ وہ ووٹر رجسٹریشن کے کام کو بھی تیز کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ مئی کے مہینے میں ملک کے تمام بتیس صوبوں میں ووٹروں کو رجسٹر کرنے کی مہم چلائی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||