انتقال اقتدار پر امریکی آمادگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ عراق میں اقتدار کی عراقیوں کو منتقلی کے طریقۂ کار میں تبدیلی پر آماد ہے تاہم وہ جون تک ایک عبوری اسمبلی کے قیام کے وعدے پر بھی پوری طرح سے عمل کرے گا۔ ایک امریکی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے عراق کے امریکی منتظم پال بریمر نے کہا کہ انتقال اقتدار کے موجودہ منصوبے میں ترامیم کا امکان ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک کو مختلف حلقوں میں تقسیم کرکے وہاں کے نمائندوں پر مشتمل عبوری اسمبلی تشکیل دینا ہے تاہم اس مقصد کے لئے قومی سطح پر کانفرنس یا جزوی انتخابات کا طریقہ بھی اپنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کے واشنگٹن عام انتخابات معینہ مدت سے ایک یا دو ماہ قبل کروانے پر بھی راضی ہوسکتا ہے۔ عراق میں اکثریتی شیعہ آبادی کا مطالبہ ہے کہ اس سال جون تک ملک میں عام انتخابات کروا کر اقتدار عراق کے عوامی نمائندوں کو منتقل کیا جائے۔ جبکہ امریکہ کہتا ہے کہ براہ راست عام انتخابات کے لئے جون تک کا وقت ناکافی ہے۔ پال بریمر نے توقع ظاہر کی ہے کہ عراق کے لئے اقوام متحدہ کےخصوصی نمائندے لخدر براہیمی بھی ان کے اس خیال سے اتفاق کریں گے۔ لخدر براہیمی عراق میں جلد عام انتخابات کے امکان پر اپنی رپورٹ آئندہ چند ہفتوں میں پیش کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||