BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 February, 2004, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیوی کی موت پر چار نفل شکرانے کے

ٹیکسی
سینٹرل لندن میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کی باتیں جو بارہ سال پہلے لندن آیا تھا۔ ہوائی اڈے پہنچنے تک اس نے بہت سی باتیں کیں جن کا پہلا حصہ مندرجہ ذیل ہے۔

پہلا حصہ

’بھائی جان میری جب بیوی فوت ہوئی تو میرے ایک محلے دار نے مجھے دو دو کر کے چار نفل شکرانے کے پڑھنے کے لئے کہا

میں بڑا حیرن ہوا اور پوچھا کہ بھائی کیوں

اس نے کہا دو تو اس بات کے کہ جب اُس کو کرنٹ لگا تھا تو میرے بچوں نے اسے نہیں پکڑا اور باہر بھاگ گئے اور دو نفل اس بات کے کہ میں اس وقت ملک سے باہر تھا

میں نے اس سے پوچھا کہ پاکستان میں رہنے سے کیا نقصان ہونا تھا

اس نے کہا کہ تمہارے سسرال والوں نے کہنا تھا کہ ان کی بیٹی کرنٹ سے نہیں مری بلکہ میں نے اسے خود مارا ہے

اس وقت تو میں نے اس کی بات نہیں مانی، لیکن بھائی جان یقین کریں کہ چالیسویں کے تھوڑے ہی دنوں بعد انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ان کی بیٹی کرنٹ لگنے سے نہیں مری بلکہ میں نے اس کو ٹینشن دے کر مار دیا

پھر میں نے بھائی جان چار نفل پڑھے اور جا کے محلے دار کو بولا کہ بھائی تم ٹھیک کہتے تھے

میں نے تو تنگ آ کے بھائی جان گھر ہی بیچ دیا۔۔اب ان سے دور گھر لیا ہے

ویسے میں نے انویسٹیگیشن کی تھی کہ آخر اسے کرنٹ لگا کیسے۔۔پتہ چلا کہ پانی والی موٹر شارٹ تھی

میں نے پتہ کرانا شروع کیا کہ موٹر کتنے دن پہلے ٹھیک ہوئی اور کس نے ٹھیک کی

ساری بات ہی کلئیر ہو گئی۔۔۔۔میری بیوی نے اپنی بڑی بہن کو کہا تھا کہ موٹر ٹھیک کرانی ہے، اس نے مارکیٹ سے کسی صحیح والے مکینک کو بلانے کی بجائے پیسے بچانے کے لئے محلہ میں ایک لڑکے کو گھر بھیج دیا

اس لڑکے نے دو سو روپے لیے، مارکیٹ میں پانچ سو روپے لگ جانے تھے

میں نے ان کو بڑی سنائیں، بھائی جان ذرہ اندازہ لگائیں تین سو روپے کے پیچھے اپنی لڑکی مرا بیٹھے ہیں۔‘

(تھوڑے وقفے کے بعد ٹیکسی والے نے اپنی بات جاری رکھی)

’بھائی جان جس رات وہ فوت ہوئی بڑی عجیب بات ہوئی

اس دن میں نے پہلی بار اس سے فون پر بات کرتے ہوئے پانچ پاؤنڈ والا پورا کارڈ ختم کر دیا اور پھر بھی میری تسلی نہیں ہو رہی تھی

میرا دل بار بار کہہ رہا تھا کہ اس سے اور باتیں کروں، میں نے اپنی مالک مکان کو بتایا کہ مجھے گھبراہٹ ہو رہی ہے اور میں دکان سے ایک اور کالنگ کارڈ خریدنے جا رہا ہوں

لیکن باجی نے مجھے منع کر دیا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رات کو دیر ہو گئی ہو گی تم سو جاؤ، بھائی جان اس کے دو گھنٹے بعد لاہور سے فون آگیا

بھائی جان اس بار جب میں پاکستان سے واپس آ رہا تھا تو اس نے بڑی ضِد کی تھی کہ میں ایک مہینہ اور رک جاؤں

لیکن میرا ٹکٹ ختم ہو رہا تھا، میں نے اسے سمجھایا بھی کہ فالتو پیسے لگ جائیں گے لیکن اس نے پھر بھی بڑی ضد کی

میرے لندن پہنچنے کے اکیس دن بعد وہ مر گئی

میرے خیال میں مرنے والوں کو پہلے سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ جانے والے ہیں، شاید اس کا دل تھا کہ جب وہ مرے تو میں وہیں پر ہوں اور سارا بندوبست کروں‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد