عراق دھماکہ: مزید سینتالیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دارالحکومت بغداد میں بدھ کو علی الصبح عراقی فوج کی بھرتی کے دفتر کے باہر ایک دھماکے میں کم از کم سینتالیس افراد کے ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ دھماکہ بغداد میں ملک کی نئی فوج کے لئے قائم بھرتی دفتر کے باہر اس وقت ہوا جب سینکڑوں عراقی وہاں موجود تھے۔ اس سے قبل منگل کوبھی ایسے ہی ایک دھماکے میں جو ایک پولیس سٹیشن کے باہر ہوا تھا، تقریباً پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پچھلے چوبیس گھنٹوں میں عراق میں دو بڑے دھماکوں سے ملک میں سیکورٹی کے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں اور بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عراق میں قائم کئے جارہے نئے اداروں کے لئے یہ خاصہ بڑا دھچکہ ہے۔ منگل کے روز ہونے والے دھماکے کا ٹارگٹ بھی ایک پولیس سٹیشن تھا۔ یہ دھماکہ بغداد کے جنوب میں چالیس کلومیٹر دور سکندریہ کے قصبے میں ایک پولیس سٹیشن کے باہر کھڑی گاڑی میں ہوا تھا جس میں پچاس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ تھانے اور برابر میں واقع عدالتی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ عراق کی نئی پولیس فورس کے جو امریکہ نے قائم کی ہے اب تک تین سو سے زیادہ اہلکاروں کو شدت پسندی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کل ہونے والا حملے میں وہ عناصر ملوث ہوں جو کہ شیعہ اکثریتی کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ پیر کے دن امریکی حکام نے عراق میں شیعہ سنی فساد شروع کرانے کی ایک سازش کا انکشاف کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||