پتنگ کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک طرف جہاں بسنت کے روایتی کھیل پتنگ بازی میں تیزی آرہی ہے وہیں اس کھیل کی مخالفت میں ہونے والے مظاہروں میں بھی اسی طرح شدت آتی جا رہی ہے۔ اتوار کو لاہور پریس کلب کے سامنے نوجوانوں کی ایک تنظیم شباب ملی کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ ہواجو بسنت کی مخالف میں گزشتہ بیس روز کےدوران لاہور میں چوتھا مظاہرہ ہے۔ مظاہرین نے بڑے بڑے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر پتنگ بازی کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بسنت پر پتنگ بازی کو ایک ہندؤانہ تہوار قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ حکومت بسنت پر پابندی بحال کرے۔ پنجاب میں ہر سال بہار کا استقبال پتنگ بازی کر کے کیا جاتا ہے لیکن ہر سال پتنگ بازی کے دوران ہونے والے حادثات کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ گزشتہ برس حکومت پنجاب نے انہی وجوہات کی بنا پر اس تہوار پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن اس سال حکومت نے بسنت کا موسم آتے ہی ایک ماہ کے لیے پابندی ہٹا دی تھی جس کے بعد سے لاہور میں پتنگ بازی شروع ہوگئی لیکن اس ساتھ ہی اس کے بسنت مخالف حلقوں کا احتجاج بھی شروع ہوگیا۔ خاص طور پر مذہبی حلقے پتنگ بازی کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اس پابندی کے خلاف اس سے قبل جماعت اسلامی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام مظاہرے ہوچکے ہیں جبکہ شباب ملی کا یہ دوسرا مظاہرہ تھا۔ شباب ملی لاہور کے صدر سلمان بلوچ نے کہا ہے کہ’ پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں لیکن حکومت کی کان پر جوں نہیں رینگ رہی۔‘ مظاہرین نے یہ مطالبہ بھی کیا پاکستان ٹیلی وژن پر بسنت سے متعلق پروگرام بند کیے جائیں انہوں نے کہا کہ’اگر مطالبہ منظور نہ ہوا تو وہ پی ٹی وی کی عمارت کا گھیراؤ کریں گے۔‘ لاہور میں چودہ فروری کو بسنت منائی جائے گی تاہم پابندی ہٹائے جانے کے پہلے بیس روز کے دوران ہی لاہور میں سات افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||