BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2004, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایک پنجاب کا مطلب سرحد کا خاتمہ نہیں‘

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ
بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ لاہور میں اپنے تین روزہ قیام کے بعد واہگہ کے راستے بھارت واپس چلے گئے ہیں لیکن جانے سے قبل وہ اپنے ’ایک پنجاب‘ نظریہ کی وضاحت کر گئے۔

اتوار کو بھارت روانگی سے قبل لاہور کے ضلعی ناظم کی جانب سے دیے گئے ایک ظہرانے میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے اپنے موقف کی وضاحت میں کہا’ہم پاکستان کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے دونوں ملکوں کے درمیان سرحد ختم کرنے کی بات نہیں کی تھی بلکہ مشرقی اور مغربی پنجاب کے درمیان ویزے کی پابندی ختم کرنے کی بات کی تھی تاکہ دونوں طرف کے پنجاب کے عوام آسانی سے آجاسکیں۔‘

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ اپنے دورے کے دوران بار بار ’ایک پنجاب ‘ کی بات

کرتے رہے اور جواب میں پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی پاکستان اور بھارت کو دو علیحدہ حقیقتیں قرار دیتے رہے۔

دونوں وزرائے اعلیٰ نے لاہور کے سٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور اس امر پر اتفاق کا اعلان کیا کہ مشترکہ دشمن یعنی غربت ،جہالت،اور پسماندگی کے خلاف مل کر جدوجہد کرنا چاہیے۔

بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے کہا کہ’ میں پیار لے کر آیا تھا اور پیار لیکر جارہا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ اگرچہ انگریز کی لکیر نے ہمیں ادھر ادھر کر دیا ہےلیکن چھپن سال گزرنے کے باوجود ہمارے باہمی تعلقات اور دوستی کی خواہش ختم نہیں ہوئی۔‘

اس سوال پر کہ بھارت ایک طرف دوستی بڑھانے کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف کنٹرول لائن پر باڑ لگا رہا ہے؟ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے کہا ’ جب آپس میں پیار و محبت پوری طری قائم ہو جائے گا تو پھر باڈر اور باڑ خودبخود ختم ہوجائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ابھی شروعات ہوئی ہے اور آہستہ آہستہ معاملات ٹھیک ہوتے چلے جائیں گے۔

وزیراعلی پاکستانی پنجاب پرویز الٰہی نے کہا کہ دونوں ملکوں میں غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور ہمیں مل کر اپنی صلاحیتوں کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت اور تعلیم کے شعبوں میس ایک دوسرے کی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں پنجاب کے مابین کھیلوں کی ٹیموں کے تبادلے پر اتفاق کیا گیا ہے اور اب دونوں دونوں ممالک کی وفاقی حکومتوں کی منظوری سے دونوں صوبوں کے روایتی کھیل جیسے کبڈی وغیرہ کے مقابلے کا انعقاد ہوگا۔

بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ امریندر سنگھ نے پٹیالہ میں پنجاب گیمز کے انعقادکا اعلان کیا اور اس میں پاکستانی پنجاب کی ٹیموں کی شمولیت کی دعوت بھی دی جو وزیر اعلیٰ پاکستانی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے قبول کرلی ہے۔

بھارتی پنجاب کی اولمپکس ایسوسی ایشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اٹھائیس فروری کو چودھری پرویز الٰہی بھارتی پنجاب کے شہر پٹیالہ میں ہونے والے ان مشترکہ کھیلوں کا افتتاح کریں گے۔

بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نے پاکستان میں آخری دن خاصا مصروف رہ کر گزارا

اور وہ بابا گرو نانک کے جنم استھان پرگئے اور ماتھا ٹیکنے کی رسم ادا کی ۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے علاوہ انہوں نے ضلعی ناظم کے ظہرانے اور ورلڈ پنجابی کانفرنس کے چیئرمین فخر زمان کے گھر لاہور کے مخصوص پکوان کا ناشتہ کیا۔

ان کے نو رکنی وفد کو واہگہ پر پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی اور دیگر سرکاری اہلکاروں نے الوادع کیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد