| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی چیئرمین مستعفی
سیاسی امور کے لئے بی بی سی کے ایڈیٹر نے بتایا ہے کہ بی بی سی کے چیئرمین گیون ڈیوس استعفیٰ دے رہے ہیں۔ ان کا یہ فیصلہ ہٹن کمیشن کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ادھر بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل گریگ ڈایک نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ ڈاکٹر کیلی کی موت ایک المیہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی بی سی نے یہ بات تسلیم کر لی تھی کہ اینڈریو گیلگن کی رپورٹ میں لگائے گئے کچھ اہم الزام غلط تھے اور اس پر انہوں نے معافی مانگی تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ میں کسی مرحلے پر بھی بی بی سی نے وزیرِ اعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام نہیں لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کیلی ایک قابلِ اعتبار ذریعۂ خبر تھے اور اس بات کا تقاضا تھا کہ ان کے الزامات کی رپورٹنگ درست طور پر کی جائے اور لوگوں کو ان معاملات سے آگاہی ہو سکے۔ اس سلسلے میں بی بی سی نے درج ذیل بیان جاری کیا ہے: ’ڈاکٹر کیلی کی موت ان کے اہل خانہ کے لیے ایک سانحہ ہے اور ہم ایک بار پھر ان سے پُر خلوص تعزیت کرتے ہیں۔ ہم نے لارڈ ہٹن کی رپورٹ میں بی بی سی پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو نوٹ کیا ہے۔ ان میں سے اکثر کا تعلق اس غلطی سے ہے جس پر بی بی سی نے پہلے ہی تحقیقات کے دوران اعتراف کر تے ہوئے اظہارِ افسوس کیا ہے۔ ہم لارڈ ہٹن کی انکوائری کے ممنون ہیں جس کے نتیجے میں ہم آج ستمبر کے حقائق نامے کے ارتقاء کو زیادہ بہتر طور جان سکے ہیں۔بی بی سی تسلیم کرتی ہے کہ انتیس مئی کو ٹوڈے پروگرام میں نشر ہونے والے الزامات کے بارے میں اینڈریو گیلیگن کی رپورٹ غلطی پر مبنی تھی اور ہم اس کے لیے معافی چاہتے ہیں۔ بہر طور گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران کسی بھی مرحلے پر ہم نے وزیراعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام نہیں لگایا اور کئی مراحل پر اس کا واضح اعتراف بھی کیا ہے۔ حقائق نامہ سے ایسے معاملات کو سامنے لاتا تھا جن سے رائے عامہ کو شدید دلچسپی ہو سکتی تھی۔ ڈاکٹر کیلی ایک انتہائی قابل اعتبار ذریعہ تھے بشرطیکہ کہ ان کے الزامات کی صحیح رپورٹنگ کی جاتی۔جدید جمہوریت میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس نوع کے الزامات سے آگاہ ہوں۔ بی بی سی نے حقائق نامے کے حوالے سے جو کچھ بھی نشر کیا وہ اس مقصد کی تکمیل کرتا ہے۔ ہم نے اپنے طریقۂ کار کو بہتر بنانے کے لئے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ شکایات اور ان کے ازالے کے لئے ایک نیا نظام تشکیل دے دیا گیا ہے جس کے نگراں ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہوں گے۔ بی بی سی کے ان صحافیوں کے لئے جو اخبارات اور جرائد میں لکھنا چاہتے ہیں، نئے اصول و ضوابط مرتب کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ نظرِثانی شدہ ادارتی رہنمائی کے اصول بھی شائع کیے جائیں گے۔ رپورٹ میں دیگر عوامل کا بھی ذکر ہے جن میں حقائق نامہ سے متعلق تفصیلات بھی درج ہیں اور ان پر احتیاط سے غور کیا جائے گا۔ بی بی سی کے گورنر کل باضابطہ اجلاس میں لارڈ ہٹن کی رپورٹ پر مزید غور کریں گے۔ اس اجلاس کے اختتام تک مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||