| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت، حریت ملاقات پر کشمیری رد عمل
کشمیر کی علیحدگی پسند تنظیم آل پارٹیز حریت کانفرنس(عباس گروپ) اور بھارتی نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی کے درمیان بات چیت پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری رہنماؤں نے بار بار بھارت کی نیک نیتی کا سوال اٹھایا ہے۔ کشمیر کی عسکریت پسند تنظیموں کے خیال میں صرف بات چیت شروع ہو جانے کی بنیاد پر مسلح جدو جہد نہیں روکی جا سکتی۔ حریت کے سخت گیر موقف اور معتدل رویہ رکھنے والے دونوں دھڑوں نے ملاقات کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے جواب میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سابق سربراہ اور عباس گروپ کے رکن میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیریوں کو دنیا کو دکھانا ہے کہ وہ امن پسند ہیں۔ عسکریت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے عمر فاروق نے کہا کہ انہوں نے لال کرشن اڈوانی کو بتایا ہے کہ کشمیری کیوں بندوق اٹھانے پر مجبور ہوا؟ ان کا کہنا تھا کشمیریوں کو ایسا موقف اختیار کرنا چاہیے کہ کل کوئی ان پر انگلی نہ اٹھا سکے کہ انہوں نے امن کے لئے مذاکرات کے ذریعے کوشش نہیں کی۔ موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمر فاروق نے کہا کہ یہ بھارت کی قیادت کا امتحان ہے کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ یا کشمیری قیادت کے ساتھ مخلص ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہندوستان مخلصی کا مظاہرہ نہیں کرتا تو اس کا اصل روپ پوری دنیا کے سامنے ہوگا۔ سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ بھارت چھپن سال سے دھوکہ بازی سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ” کچھ دوستوں” نے بھارت کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے اور وہ آنے والے مہینوں میں بھارت کی نیک نیتی کا ثبوت دیکھنا چاہیں گے لیکن موجودہ حالات میں وہ اپنا موقف نہیں بدل سکتے۔ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ نے جو اعتدال پسند رہنما مانے جاتے ہیں اڈوانی ،حریت مذاکرات کو ناکام کہا۔ حال ہی میں ہونے والی سارک کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت ہی فیصلہ کرے گا آیا بھارت کی سوچ میں واقعی کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں۔ گیلانی گروپ کے سربراہ سید علی شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ ملاقات کے مخالفین کا موقف درست ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد کی فضا کی باتیں پچپن سال سے ہو رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||