| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جوہری تجربوں نےجنگ روکی
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں گزشتہ ماہ پاکستان کی طرف سے جوہری ہتھیار لے کر جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے کامیاب تجربات کی وجہ سے پاک بھارت جنگ ٹل گئی تھی۔ صدر مشرف نے یہ بات ’دفاعی توازن حاصل کرنے کے پروگرام‘ کی کامیابی پر ان کی طرف سے سائنسدانوں اور انجنئیروں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کے دروان خطاب کرتے ہوئے کی۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک ہے اور جنگ نہیں چاہتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ گزشتہ چھ ماہ میں تمام تر اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے تحمل سے کام لیا ہے اور وہ کشمیر سمیت تمام امور کا مذاکرات کے ذریعہ حل چاہتا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کے جوہری اسلحہ بنانے سے جنوبی اشیاء میں دفاعی توازن قائم ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ جس وقت پاکستان نے میزائلوں کے تجربات کئے پاک بھارت سرحد پر دونوں ملکوں کے دس لاکھ فوجی آمنے سامنے کھڑے تھے اور جنگ چھڑنے کا خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا۔ صدرمشرف نے اپنے خطاب میں کہا کہ 1998 میں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے بھارت پر یہ ثابت کیا تھا کہ اپنی صلاحیت کےبارے میں وہ محض دھمکی نہیں دے رہا اور پاکستان کو میزائلوں کے حالیہ تجربات بھی اسی وجہ سے کرنے پڑے۔انہوں نے کہا کہ میزائلوں کے تجربات نے مکمل عسکری توازن قائم کر دیا تھا۔ بین الاقوامی برادری نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر اتفاق نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا لیکن صدر مشرف نے اپنی تقریر میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ صدر مشرف نے کہا کہ بھارت کی پاکستان پر حملہ نہ کر سکنے کی صلاحیت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا جوہری اسلحہ تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ تاہم امن کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موثر رابطہ نہ ہونا اور غلطی کی گنجائش صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا دیتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||