BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2004, 20:41 GMT 01:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان پر دباؤ کب نہیں رہا‘
’سانسدانوں سے پوچھ گچھ سے تمام قوم کی حوصلہ شکنی ہوگی‘
’سائنسدانوں سے پوچھ گچھ سے تمام قوم کی حوصلہ شکنی ہوگی‘

سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے ان خبروں کی پرزور تردید کی ہے کہ پاکستان کی جوہری ٹیکنالوجی کو ایران کو منتقل کرنے کے شبعہ میں ان سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے۔

بی بی سی ریڈیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ سو فیصد جھوٹ ہے۔ ’نہ تو مجھ سے پوچھ گچھ کی گئی، نہ ہی مجھ سے کوئی جواب طلبی کی اور نہ ہی مجھے ڈی بریفنگ کے لیے بلایا گیا۔‘

جوہری پروگرام کے حوالے سے پاکستان پر دباؤ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا اظہار تو صدر مشرف نے اپنے پارلیمان سے خطاب میں بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پر کب دباؤ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو نوے میں بھی جب وہ چیف آف آرمی اسٹاف تھے تو یہ خبر ملی تھی کہ اسرائیل بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کی جوہری تنصیبات کو پر حملہ کرنے کی سازش کر رہا ہے۔

انہوں نے ان خبروں کو اس سازش کا حصہ قرار دیا جو ان کے بقول پندرہ سال پہلے بھی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ سال پہلے بھی ان پرامریکی ذرائع ابلاغ میں یہ الزام لگایا گیا تھاکہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کو کسی تیسرے ملک کو منتقل کرنے کے حامی ہیں۔

ایک برطانوی اخبار نے جنرل بیگ پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انیس سو اٹھاسی سے انیس سو اکانوے تک کے دور میں جب وہ چیف آف آرمی اسٹاف تھے تو ملک کے جوہری راز ایران کو فراہم کئے گئے۔ اس خبر میں یہ بھی دعوی کیا گیا ہے کہ مرزا اسلم بیگ آئی ایس آئی کے سربراہ بھی رہے ہیں اور انہوں نے اس وقت کی حکومت کو بارہ ارب ڈالر کے عوض فروخت کرنے کی تجویز بھی پیش کی تھی جس کو رد کر دیا گیا تھا۔

اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس خبر کے تو حقائق ہی درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا وہ تو کبھی آئی ایس آئی کے سربراہ نہیں رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارچ انیس سو نواسی میں بے نظیر اور غلام اسحاق خان کی مشترکہ صدارت میں ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جوہری شعبے میں احتیاط سے کام لیا جائے اور مزید پیش رفت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا انیس سو نوے میں اتنی صلاحیت حاصل کر لی گئی تھی جو بھارت کو کسی جارحیت سے روکنے کے لیے کافی تھی۔ انہوں نے کہا اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ نہ تو یہ ٹیکنالوجی کسی دوسرے ملک کو مہیا کی جائے گی اور نہ ہی مزید یورینیم کی افزائش کی جائے گی تاہم تحقیق کے کام کو جاری رکھاجائے گا۔

خان ریسرچ لیبارٹری کے سائنسدانوں سے ہونے والی پوچھ گچھ پر انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابل احترام شخصیات ہیں اور ان سے شریفانہ طریقے سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ملک کے لیے کام کرنے والے لوگوں کے حوصلہ پست ہو جائیں گے اور تمام لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے لوگوں سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اس سے تو دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو فوج کو حکم دیا گیا کہ تادیبی کارروائی کی جائے اور اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنے وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بھارت روانہ کیا جہاں انہوں نے بھارتی حکومت پر یہ واضح کر دیا کہ اگر پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر کسی طرف سے بھی حملہ کیا گیا تو پاکستان بھارتی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔

اس کارروائی کے بعد امریکہ نے رابرٹ گیٹس کو پاکستان بھیجا۔ انہون نے کہا کہ رابرٹ گیٹس پر بھی یہ بات واضح کر دی گئی تھی کے بھارت اور اسرائیل کو اس طرح کے منصوبوں سے باز رکھا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد