| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شبیر کا انداز کھٹکتا ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر شبیراحمد کا بولنگ ایکشن ایک بار پھر مشکوک قرار پایا ہے جسے چھ ہفتے کے دوران درست کرنا ہوگا۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے دوران ویلنگٹن میں کھیلے گئے پانچویں اور آخری ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں امپائرز بلی باؤڈن اور ڈیرل ہیئر نے شبیراحمد کے بولنگ ایکشن کو آئی سی سی کے مروجہ قواعد وضوابط کے مطابق قرار نہ دیتے ہوئے اس کی آئی سی سی میچ ریفری انگلینڈ کے کرس براڈ کو رپورٹ کی ہے ۔کرس براڈ نے اس بارے میں آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع کردیا ہے۔ ستائیس سالہ شبیر احمد دوسری مرتبہ مشکوک بولنگ ایکشن پر رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں اس صورتحال کا سامنا 1999 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹورنٹو میں اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں بھی ہوا تھا جب امپائرز ڈیوآرچرڈ اور اسٹیو ڈن کی رپورٹ پر میچ ریفری جنوبی افریقہ کے پیٹر وان ڈر مرو نے ان کے بولنگ ایکشن کے مشکوک ہونے پر آئی سی سی کو مطلع کیا تھا۔ اس رپورٹ کے نتیجے میں شبیراحمد کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا جانے والی ٹیم میں شامل کرنے کے بعد آخری لمحات میں دستبردار کرالیا تھا اور مائیکل ہولڈنگ کی مدد سے ان کے بولنگ ایکشن کو درست کیا تھا۔ شبیراحمد کی پاکستان کرکٹ ٹیم میں واپسی چار سال بعد گزشتہ سال سری لنکا میں ہونے والے سہ فریقی ون ڈے ٹورنامنٹ کے موقع پر ہوئی تھی اور اس کے بعد سے وہ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور اس وقت انہیں پاکستان کے جواں سال فاسٹ بولنگ اٹیک میں اہم مقام حاصل ہے۔ چھ فٹ پانچ انچ طویل قامت شبیراحمد نے صرف چھ ٹیسٹ میچوں میں تینتیس وکٹیں حاصل کی ہیں بنگلہ دیش کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وہ سترہ وکٹوں کے ساتھ کامیاب بولر رہے۔ جنوبی افریقہ کے خلاف فیصل آباد ٹیسٹ اور نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ دو ٹیسٹ میچوں میں بھی شبیر احمد نے متاثرکن بولنگ کی۔ انیس ون ڈے میچوں میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد 17 ہے ۔ ایک بار پھر بولنگ ایکشن پر اعتراض سامنے آنے کے بعد شبیراحمد کو پاکستان کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی کے مقرر کردہ بولنگ ماہرین کی مدد سے اعتراض کو دور کرنا ہوگا۔ اگر چھ ہفتے بعد ان کے بولنگ ایکشن کو دوبارہ مشکوک قرار دیا گیا تو پھر آئی سی سی کا اپنا جائزہ پینل ان کے بولنگ ایکشن کا جائزہ لے گا اور اگر وہ اس سے مطمئن نہ ہوا تو انہیں ایک سال کی پابندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ شبیراحمد کے علاوہ پاکستان کے شعیب اختر ، شاہد آفریدی اور شعیب ملک مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آچکے ہیں تاہم شعیب اختر اور سری لنکا کے شہرہ آفاق آف اسپنر مرلی دھرن کے بولنگ ایکشن پر اعتراضات کا سلسلہ ان دونوں کے بازوؤں کی غیرمعمولی ساخت کے پیش نظر میڈیکل بنیاد پر انہیں کلیئر کئے جانے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوچکا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||