| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کمانڈروں کے ’غلط‘ اندازے
عراق میں بعض فوجی کمانڈر کہہ رہے تھے کہ حال میں حملوں کی تعداد بھی گھٹ گئی ہے اور ان کی تباہ کاری بھی کم ہو گئی ہے۔ لیکن واشنگٹن میں محکمۂ دفاع (پینٹاگون) کے حکام کو اس خیال پر شبہات ہیں کہ امریکہ کی زیر سرکردگی اتحاد سکیورٹی کے معاملے میں کسی موڑ پر پہنچا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق امریکی فوج کو اچانک کئ وارداتوں کی تفتیش کا سامنا ہے جو اپنے اپنے انداز میں اس بات کو اجاگر کررہی ہیں کہ عراق میں اسے کیسے خطرات درپیش ہیں۔ ایک واردات یہ ہوئی ہے کہ امریکی فضائی فوج کا ایک ٹرانسپورٹ جہاز سی 5 واپس بغداد کے ہوائی اڈے پر آکر اتر گیا جس کے انجن کو نقصان پہنچا تھا۔ اس میں سوار ترسٹھ فوجی زندہ سلامت رہے۔ اب فوج کو یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ واردات کیسے ہوئی۔ اس سے پہلے فالوجہ میں ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں نو کے نو افراد ہلاک ہوگۓ تھے۔ امریکی فوج اب بھی یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ اس کی تباہی کی وجہ کیا تھی لیکن عینی شاہدوں کا کہنا ہے عراقی مخالف فائرنگ کی وجہ سے یہ واردات ہوئی۔ ایک ہفتے کے اندر فالوجہ میں گرایا جانے والا یہ دوسرا امریکی ہیلی کاپٹر تھا۔ چھ دن پہلے ایک دید بان ہیلی کاپٹرجس میں دو فوجی تھے مخالفوں کی فائرنگ سے تباہ ہوا تھا۔ ایک تیسری واردات بغداد میں امریکی اڈے کے مغرب میں مارٹر حملے کی تھی جس میں ایک ایک فوجی زخمی ہوا اور بعد میں ہلاک ہوگیا۔ اس واردات میں تیس مزید فوجی اور شہری زخمی ہوئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||