| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے
مراکش میں ایک سابق فوجی نے محبت میں کئے گئے قول و قرار کو اس طرح نبھایا کہ اس نے پچیس سال جیل میں گزارنے کے بعد بھی شادی اپنی منگیتر سے ہی کی۔ مراکش کے کا یہ سابق فوجی مراکش کے ان ہزاروں افراد میں سے ایک ہے جنہیں مغربی صحارا پر قبضے کے وقت گرفتار کیا گیا تھا۔ ان قیدیوں کو مغربی صحارا کی آزّادی کے لئے جدوجہد کرنے والی پولساریو فرنٹ نامی تنظیم نے پچیس سال تک صحارا کے ریگستان میں قائم قید خانے میں بند رکھا تھا۔ مراکش ٹیلی ویژن کو دیئے گئے ایک انٹرویو کے دوران عبدالرحیم نے بتایا کہ انہیں یقین تھا کہ ان کی منگیتر ضرور ان کا انتظار کرے گی۔ گزشتہ سال نومبر میں جیسے ہی عبدالرحیم کو باقی کئی ہزار قیدیوں سے ساتھ جیل سے رہائی ملی تو وہ سیدھے اپنے گاؤں روانہ ہو گئے جہاں انہوں نے پچیس سال سے اپنا راہ تکنے والی منگیتر باہیہ سے شادی کر لی۔ بی بی سی کے نامہ نگار سباسٹیئن عشر کے مطابق الجزائر کے تندوف قصبے میں رکھے گئے مراکشی جنگی قیدویوں کی حالت زار کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بہت تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ فرانس میں قائم انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ان قیدیوں کو بھوکا رکھا جاتا ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد دنیا بھر کی تنظیموں کی طرف سے پولساریو فرنٹ کو اپیل کی گئی کہ وہ ابھی تک پابند سلاسل چند سو قیدیوں کو بھی آزاد کر دے۔ ان قیدیوں کی اپنے گھروں کو واپسی کوئی آسان کا نہیں تھا کیونکہ ان میں سے کئی بوڑھے ہو چکے تھے جبکہ کئی بیمار تھے اور ان کے پاس رہنے کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی۔ ان میں سے کئی افراد نے اس بات کا شکوہ کیا تھا کہ سرکاری اہلکار ان سے بے اعتنائی برت رہے ہیں۔ لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور عبدالرحیم کی کہانی کو قومی ٹیلی ویژن تک پر جگہ دی گئی ہے۔ عبدالرحیم کی حد تک تو کہانی اچھے انجام کو پہنچتی ہی دکھائی دیتے ہے۔ ان کی نئی نویلی دلہن باہیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے عبدالرحیم سے جدائی کے دکھ کو سب سے چھپا کر سینے سے لگا کر رکھا کیونکہ انہیں ہمیشہ سے یقین تھا کہ وہ ضرور واپس آئیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||