BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 January, 2004, 09:20 GMT 14:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قندھار دھماکے میں تیرہ ہلاک

تازہ ترین
طالبان کی کارروائی جنوبی افغانستان میں کافی عرصے سےجاری ہیں

جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں ایک ہی مقام پر دو دھماکوں میں آٹھ بچوں سمیت تیرہ افراد ہلاک اور ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں۔

قندھار ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ ان کے پاس ستائیس زخمی پہنچے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ یہ دھماکے شہر کے مشرق میں افغانستان کے سپیشل فورس کے دفتر کے باہر ہوئے ہیں۔ قندھار کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل جنرل سالم خان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ دہشت گردی کی واردات ہے۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ان دھماکوں کی تردید کی ہے جس میں آٹھ بچے ہلاک اور ساٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

قندھار شہر میں ہونے والے ان دھماکوں کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم اس سے پہلے شہر میں ہونے والے دھماکوں کی ذمہ داری طالبان تحریک سے تعلق رکھنے والے عناصر قبول کرتے رہے ہیں۔

مشرقی قندھار میں کمانڈوز کے خصوصی دستے کے دفتر کے باہر دوپہر کے وقت پہلے ایک دھماکہ ہوا جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ وہاں جمع ہوگئے اس کے بعد ایک اور دھماکہ ہوا جس سے کافی نقضان ہوا ہے۔ دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

جنرل سالم خان نے کہا ہے کہ کم سے کم دس افراد ہلاک اور لگ بھگ پندرہ زخمی ہو ئے ہیں سالم خان نے کہا ہے کہ ایک مشکوک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس سے پوچھ گچھ کی جاری ہے۔

دھماکے کے بعد امریکی اور افغان فوجیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے

ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر ہاشم نے کہا ہے ان کے پاس ستائیس زخمی پہنچے ہیں جن میں سے آٹھ کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ انیس زخمی ہسپتال میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ زخمیوں میں چھ عورتیں اور لگ بھگ سولہ بچے شامل ہیں۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بیشتر لوگ زحمیوں کو اپنے اپنے گھروں کو لے گئے ہیں۔

قندھار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق لوگوں نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ جس مقام پر یہ دھماکے ہوئے ہیں اس کے قریب ایک غیر ملکی ادارے کا دفتر بھی ہے۔

گزشتہ رات قندھار میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے دفتر پر نا معلوم افراد نے دستی بم پھینکا اور فائرنگ بھی کی، تاہم کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔قندھار انتظامیہ نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ رات زابل میں صوبہ زابل کے شہر قلات میں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں میں آپس کی جھڑپ میں ایک فوجی افسر سمیت تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قندھار پولیس کے نائب سربراہ نے کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد بظاہر عام افغان شہری ہیں۔

افغانستان کے جنوب اور مشرق میں تشدد کی لہر کافی عرصے سے چل رہی ہے اور اس کا الزام سابق طالبان حکمران پر لگایا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد