| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’تعلقات کا عمل جاری رہے گا‘
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل جاری رہے گا۔ یہ بات بھارت کے وزیر خارجہ یشونت سنہا نے دونوں قائدین کے درمیان ایک گھنٹہ جاری رہنے والی ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ یشونت سنہا نے صدر مشرف اور واجپئی کی ملاقات کے بارے میں زیادہ تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’اس عمل کے مفاد میں ہے کہ اس مرحلہ پر اس ملاقات کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہ کہا جائے‘۔ ملاقات میں وزیراعظم واجپئی نے سارک اجلاس اور بھارت کے وفد کے لئے کئے جانے والے انتظامات پر صدر مشرف کو مبارکباد دی۔ یشونت سنہا نے کہا بتایا کہ ملاقات خیر سگالی کی یہ ملاقات وزیراعظم واجپئی کی خواہش پر ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ صدر مشرف سے ملاقات کے بعد وزیراعظم واجپئی غیر رسمی ملاقات کے لئے پاکستانی وزیراعظم جمالی کے ہاں گئے اور انہوں نے کچھ وقت تفریح میں گزارا۔ بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے بیان کے علاوہ اس ملاقات کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے وہ قیاس آرائیاں ہیں اور وہ قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتے۔ یشونت سنہا نے کہ یہ حقیقت کہ ہندوستان کے وزیراعظم سارک کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات ہی بذات خود ایک پیش رفت ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد کی طرف سے اس ملاقات کے بارے میں دیئے گۓ بیانات کے بارے میں سوال کے جواب میں یشونت سنہا نے ان کا نام لئے بغیر کہا کہ جو شخص اس مرحلہ پر اس سے زیادہ بات کررہا ہے وہ اس مقصد کو فائدہ نہیں پہنچا رہا۔ انہوں نے صدر مشرف اور وزیراعظم واجپائی سے ملاقات کی کوئی تفصیل بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس عمل کی کامیابی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس کا تقاضا ہے کہ ذمہ داری سے کام کیا جائے۔ اس سے پہلے پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے مختلف ٹیلی وژن چینلوں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی ملاقات کے بعد دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے حکام میں بات چیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں نے ایک گھنٹہ پانچ منٹ تمام معاملات پر تفصیل سے بات کی اور دونوں کے درمیان تمام معاملات پر کھل کر بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دو طرفہ مذاکرات کی بات ہوئی، دہشت گردی کی تعریف پر بات ہوئی۔ شیخ رشید نے کہا تھا کہ بعض چیزیں تصفیہ طلب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب باتیں سلجھی نہیں ہیں بلکہ کچھ الجھاؤ ہے جسے سلجھایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے دونوں ملکوں کی وزارت خارجہ کے لوگ مل کر بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امکان ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور بڑی ملاقات ہو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||